تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 15
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵ سورة البقرة اور نہ الفاظ میں یہ لذت بیان ہو سکتی ہے اور انسان ترقی کر کے ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اسے ذاتی محبت ہو جاتی ہے اور اس کو نماز کے کھڑے کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی اس لئے کہ وہ نماز اس کی کھڑی ہی ہوتی ہے اور ہر وقت کھڑی ہی رہتی ہے اس میں ایک طبعی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور ایسے انسان کی مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہوتی ہے۔ انسان پر ایسی حالت آتی ہے کہ اس کی محبت اللہ تعالیٰ سے محبت ذاتی کا رنگ رکھتی ہے اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی ۔ جس طرح پر حیوانات اور دوسرے انسان اپنے ماکولات و مشروبات اور دوسری شہوات میں لذت اُٹھاتے ہیں۔ اس سے بہت بڑھ چڑھ کر وہ مومن متقی نماز میں لذت پاتا ہے۔ اس لئے نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے ۔نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے اس دین میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اللہ ، راست باز ، ابدال، قطب گزرے ہیں۔ انہوں نے یہ مدارج اور مراتب کیوں کر حاصل کئے؟ اسی نماز کے ذریعہ سے۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وَقُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوة یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور فی الحقیقت جب انسان اس مقام اور درجہ پر پہنچتا ہے تو اس کے لئے اکمل اتم لذت نماز ہی ہوتی ہے اور یہی معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے ہیں پس کشاکش نفس سے انسان نجات پا کر اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ غرض یا د رکھو کہ يُقِيمُونَ الصَّلوة وہ ابتدائی درجہ اور مرحلہ ہے جہاں نماز بے ذوقی اور کشاکش سے ادا کرتا ہے لیکن اس کتاب کی ہدایت ایسے آدمی کے لئے یہ ہے کہ اس مرحلہ سے نجات پا کر اس مقام پر جا پہنچتا ہے جہاں نماز اس کے لئے قرۃ العین ہو جاوے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس مقام پر مشقی سے مراد وہ شخص ہے جو نفس لوامہ کی حالت میں ہے۔ نفس کے تین درجہ نفس کے تین درجہ ہیں۔ نفس اتارہ، لوامہ، مطمئنہ ۔ نفس اتارہ وہ ہے جو فسق و فجور میں مبتلا ہے اور نافرمانی کا غلام ہے۔ ایسی حالت میں انسان نیکی کی طرف توجہ نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر ایک سرکشی اور بغاوت پائی جاتی ہے لیکن جب اس سے کچھ ترقی کرتا اور نکلتا ہے تو وہ وہ حالت ہے جو نفس لوامہ کہلاتی ہے۔ اس لئے کہ وہ اگر بدی کرتا ہے تو اس سے شرمندہ بھی ہوتا ہے اور اپنے نفس کو ملامت بھی کرتا ہے اور اس طرح پر نیکی کی طرف بھی توجہ کرتا ہے لیکن اس حالت میں وہ کامل طور پر اپنے نفس پر غالب نہیں آتا بلکہ اس کے