تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 300
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۰ سورة البقرة پر کوئی اور نہ ہونا چاہے۔ہمیشہ سے میرا دل یہ فتویٰ دیتا ہے کہ غیر سے مستقل محبت کرنا جس سے الہی محبت باہر ہو خواہ وہ بیٹا ہو یا دوست کوئی ہو ایک قسم کا کفر اور کبیرہ گناہ ہے جس سے اگر نعمت اور رحمت الہی تدارک نہ کرے توسلپ ایمان کا خطرہ ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۱ صفحه ۹) تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے جیسے فرمایا: اَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا۔ساری قوتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اور انسان ضعیف البنیان تو کمزور ہستی ہے۔خُلِقَ الإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء : ۲۹) اس کی حقیقت ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحہ ۱۵۸) وَ قَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَةً فَنَتَبَرَّاً مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَا كَذلِكَ يُرِيهِمُ اللهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخْرِجِينَ مِنَ النَّارِ یعنی دوزخی لوگ درخواست کریں گے جو ایک دفعہ ہم دنیا میں جائیں۔تا ہم اپنے باطل معبودوں سے ایسے ہی بیزار ہو جا ئیں جیسے وہ ہم سے بیزار ہیں لیکن وہ دوزخ سے نہیں نکلیں گے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۲۰ حاشیه در حاشیه ) ياَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَللًا طَيِّبًا وَ لَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشّيطن (179 إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ہر ایک انسان کے لئے دو جاذب موجود ہیں یعنی کھینچنے والے۔ایک جاذب خیر ہے جو نیکی کی طرف اُس کو کھینچتا ہے، دوسرا جاذب شتر ہے جو بدی کی طرف کھینچتا ہے۔جیسا کہ یہ امر مشہود و محسوس ہے کہ بسا اوقات انسان کے دل میں بدی کے خیالات پڑتے ہیں اور اُس وقت وہ ایسا بدی کی طرف مائل ہوتا ہے کہ گویا اُس کو کوئی بدی کی طرف کھینچ رہا ہے اور پھر بعض اوقات نیکی کے خیالات اس کے دل میں پڑتے ہیں اور اُس وقت وہ ایسا نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے کہ گویا کوئی اُس کو نیکی کی طرف کھینچ رہا ہے اور بسا اوقات ایک شخص بدی کر کے پھر نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے اور نہایت شرمندہ ہوتا ہے کہ میں نے برا کام کیوں کیا اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی کو گالیاں دیتا اور مارتا ہے اور پھر نادم ہوتا ہے اور دل میں کہتا ہے کہ یہ کام میں نے بہت ہی بیجا کیا اور اُس سے کوئی نیک سلوک کرتا ہے یا معافی چاہتا ہے سو یہ دونوں قسم کی قوتیں ہر ایک انسان میں پائی جاتی ہیں اور شریعت اسلام نے نیکی کی قوت کا نام لمہ ، ملک رکھا ہے اور بدی کی قوت کولمہ شیطان سے موسوم کیا ہے۔فلسفی لوگ تو صرف اس حد تک ہی قائل ہیں کہ یہ دونوں قو تیں ہر ایک انسان میں ضرور