تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 299
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۹ سورة البقرة بلکہ معاً اس چمک کے ساتھ تمام وجود بھڑک اٹھتا ہے اور اس کی لوئیں اور شعلے ارد گرد کو روز روشن کی طرح روشن کر دیتے ہیں اور کسی قسم کی تاریکی باقی نہیں رہتی اور پورے طور پر اور تمام صفاتِ کاملہ کے ساتھ وہ سارا وجود آگ ہی آگ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اس کو روح امین کے نام سے بولتے ہیں کیونکہ یہ ہر یک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر یک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام شدید القویٰ بھی ہے کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قومی تروجی دوو متصورنہیں اور اس کا نام ذُو الْأُفُقِ الأخلی بھی ہے کیونکہ یہ وحی الہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے اور اس کو رای مارای کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان اور وہم سے باہر ہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسان کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے۔اور دائرہ استعدادات بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے اور وہ در حقیقت پیدائش الہی کے خط ممتد کی اعلیٰ طرف کا آخری نقطہ ہے جو ارتفاع کے تمام مراتب کا انتہا ہے۔حکمت الہی کے ہاتھ نے ادنیٰ سے ادنی خلقت سے اور اسفل سے اسفل مخلوق سے سلسلہ پیدائش کا شروع کر کے اس اعلیٰ درجہ کے نقطہ تک پہنچادیا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم ، جس کے معنے یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا یعنی کمالات تامہ کا مظہر سوجیسا کہ فطرت کے رو سے اس نبی کا اعلیٰ اور ارفع مقام تھا ایسا ہی خارجی طور پر بھی اعلیٰ وارفع مرتبہ وحی کا اس کو عطا ہوا اور اعلیٰ وارفع مقام محبت کا ملا۔( توضیح مرام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۳ ، ۶۴) جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی غیوری محبت ذاتیہ میں کسی مومن کی اس کے غیر سے شراکت نہیں چاہتی۔ایمان جو ہمیں سب سے زیادہ پیارا ہے وہ اسی بات سے محفوظ رہ سکتا ہے کہ ہم محبت میں دوسرے کو اُس سے شریک نہ کریں اللہ جل شانہ مومن کی یہ علامت فرماتا ہے : وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ یعنی جو مومن ہیں وہ خدا سے بڑھ کر کسی سے دل نہیں لگاتے محبت ایک خاص حق اللہ جل شانہ کا ہے جو شخص اُس کا حق دوسرے کو دے گا وہ تباہ ہوگا۔تمام برکتیں جو مردان خدا کو ملتی ہیں اور تمام قبولیتیں جو اُن کو حاصل ہوتی ہیں کیا وہ معمولی وظائف سے یا معمولی نماز و روزہ سے ملتی ہیں ہرگز نہیں بلکہ وہ توحید فی المحبت سے ملتی ہیں، جو اُسی کے ہو جاتے ہیں، اُسی کے ہو رہتے ہیں۔اپنے ہاتھ سے دوسروں کو اُس کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔میں خوب اُس درد کی حقیقت کو پہنچتا ہوں جو ایسے شخص کو ہوتا ہے کہ یک دفعہ وہ ایسے شخص سے جدا کیا جاتا ہے جس کو وہ اپنے قالب کی گویا جان جانتا تھا لیکن مجھے غیرت اس بات میں ہے کہ ہمارے حقیقی پیارے کے مقابل