تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 298

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۸ سورة البقرة محبت الہی میں وہ ترقی کرے گا اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہو کر بدیوں اور برائیوں سے نفرت دلا کر پاکیزگی کی طرف لے جائے گا۔پس اسلام نے ان دونوں حقوق کو پورا کرنے کے لئے ایک صورت نماز کی رکھی جس میں خدا کے خوف کا پہلو رکھا ہے اور محبت کی حالت کے اظہار کے لئے حج رکھا ہے۔خوف کے جس قدر ارکان ہیں وہ نماز کے ارکان سے بخوبی واضح ہیں کہ کس قدر تذلل اور اقرار عبودیت اس میں موجود ہے اور حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں بعض وقت شدت محبت میں کپڑے کی بھی حاجت نہیں رہتی۔عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے کپڑوں کو سنوار کر رکھنا یہ عشق میں نہیں رہتا۔سیالکوٹ میں ایک عورت ایک درزی پر عاشق تھی اسے بہتیرا پکڑ کر رکھتے تھے وہ کپڑے پھاڑ کر چلی آتی تھی غرض یہ نمونہ جو انتہائے محبت کا لباس میں ہوتا ہے وہ حج میں موجود ہے، سرمنڈایا جاتا ہے، دوڑتے ہیں ، محبت کا بوسہ رہ گیا، وہ بھی ہے۔جو خدا کی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آیا ہے پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھایا ہے اسلام نے پورے طور پر ان حقوق کی تکمیل کی تعلیم دی ہے نادان ہے وہ شخص جو اپنی نا بینائی سے اعتراض کرتا ہے۔(احکام جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخه ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۳) مراتب قرب و محبت باعتبار اپنے روحانی درجات کے تین قسم پر منقسم ہیں ؛ سب سے ادنی درجہ جو در حقیقت وہ بھی بڑا ہے یہ ہے کہ آتشِ محبت الہی اوج قلب انسان کو گرم تو کرے اور ممکن ہے کہ ایسا گرم کرے کہ بعض آگ کے کام اُس مخرُور سے ہو سکیں لیکن یہ کسر باقی رہ جائے کہ اُس متاثر میں آگ کی چمک پیدا نہ ہو اس درجہ کی محبت پر جب خدا تعالیٰ کی محبت کا شعلہ واقع ہو تو اس شعلہ سے جس قدر روح میں گرمی پیدا ہوتی ہے اس کو سکینت و اطمینان اور کبھی فرشتہ و ملک کے لفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔دوسرا درجہ محبت کا وہ ہے۔۔۔۔۔۔جس میں دونوں محبتوں کے ملنے سے آتش محبت الہی لوح قلب انسان کو اس قدر گرم کرتی ہے کہ اُس میں آگ کی صورت پر ایک چمک پیدا ہو جاتی ہے لیکن اُس چمک میں کسی قسم کا اشتعال یا بھڑک نہیں ہوتی۔فقط ایک چمک ہوتی ہے جس کو رُوح القدس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس میں ایک نہایت افروختہ شعلہ محبت الہی کا انسانی محبت کے مستعد فتیلہ پر پڑ کر اُس کو افروختہ کر دیتا ہے اور اس کے تمام اجزا اور تمام رگ وریشہ پر استیلا پکڑ کر اپنے وجود کا اتم اور اکمل مظہر اس کو بنا دیتا ہے اور اس حالت میں آتشِ محبت الہی لوحِ قلب انسان کو نہ صرف ایک چمک بخشتی ہے