تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 14

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴ سورة البقرة نہیں ہوتا اور اس کے لئے ہدایت یہی ہے کہ اس کے ایمان کو حالت غیب سے منتقل کر کے حالت شہود میں لے آتا ہے اور اس پر دلیل یہ ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَغْنى (بنی اسرائیل: ۷۳) یعنی جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ دوسرے عالم میں بھی اندھا اُٹھایا جاوے گا۔اس نابینائی سے یہی مراد ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی تحیتی اور ان امور کو جو حالت غیب میں ہیں اسی عالم میں مشاہدہ نہ کرے اور یہ نا بینائی کا کچھ حصہ غیب والے میں پایا جاتا ہے لیکن هُدًى لِلْمُتَّقِین کے موافق جو شخص ہدایت پالیتا ہے اس کی وہ نا بینائی دور ہو جاتی ہے اور وہ اس حالت سے ترقی کر جاتا ہے اور وہ ترقی اس کلام کے ذریعہ سے یہ ہے کہ ایمان بالغیب کے درجہ سے شہود کے درجہ پر پہنچ جاوے گا اور اس کے لئے یہی ہدایت ہے۔قی کی دوسری صفت مثقفی کی دوسری صفت یہ ہے يُقِيمُونَ الصَّلوة یعنی وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں۔متقی سے جیسے ہوسکتا ہے نماز کھڑی کرتا ہے۔یعنی کبھی اس کی نماز گر پڑتی ہے پھر اسے کھڑا کرتا ہے۔یعنی مشتقی خدا سے ڈرا کرتا ہے اور وہ نماز کو قائم کرتا ہے اس حالت میں مختلف قسم کے وساوس اور خطرات بھی ہوتے ہیں جو پیدا ہو کر اس کے حضور میں ہارج ہوتے ہیں اور نماز کو گرا دیتے ہیں لیکن یہ نفس کی اس کشاکش میں بھی نماز کو کھڑا کرتا ہے۔کبھی نماز گرتی ہے مگر یہ پھر اسے کھڑا کرتا ہے اور یہی حالت اس کی رہتی ہے کہ وہ تکلف اور کوشش سے بار بار اپنی نماز کو کھڑا کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس کلام کے ذریعہ ہدایت عطا کرتا ہے اس کی ہدایت کیا ہوتی ہے۔الحکم نمبر ۲ جلد ۱۰ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۵) اس وقت بجائے يُقِيمُونَ الصَّلوة کے ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ وہ اس کشمکش اور وساوس کی زندگی سے نکل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ انہیں وہ مقام عطا کرتا ہے جس کی نسبت فرمایا ہے کہ بعض آدمی ایسے کامل ہو جاتے ہیں کہ نماز ان کے لئے بمنزلہ غذا ہو جاتی ہے اور نماز میں ان کو وہ لذت اور ذوق عطا کیا جاتا ہے جیسے سخت پیاس کے وقت ٹھنڈا پانی پینے سے حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ نہایت رغبت سے اسے پیتا ہے اور خوب سیر ہو کر حظ حاصل کرتا ہے یا سخت بھوک کی حالت ہو اور اسے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا خوش ذائقہ کھا نامل جاوے جس کو کھا کر وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے، یہی حالت پھر نماز میں ہو جاتی ہے۔وہ نماز اس کے لئے ایک قسم کا نشہ ہو جاتی ہے جس کے بغیر وہ سخت کرب و اضطراب محسوس کرتا ہے لیکن نماز کے ادا کرنے سے اس کے دل میں ایک خاص سرور اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے جس کو ہر شخص نہیں پاسکتا