تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 290
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۰ سورة البقرة سینه می باید تهی از غیر یار دل ہمی باید پر از یاد نگار جاں ہمی باید براه او فدا سرهمی باید به پائے اوتار هیچ دانی چیست دین عاشقاں گوئمت گر بشنوی عشاق دا از ہمہ عام فردیستن نظر لوح دل شستن ز غیر دوستدار قرب کی دوسری قسم والد اور والد کی تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً (البقرة : ۲۰۱) یعنی اپنے اللہ جل شانہ کو ایسے دلی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو یاد کیا جاتا ہے۔یا درکھنا چاہیئے کہ مخدوم اس وقت باپ سے مشابہ ہو جاتا ہے جب محبت میں غایت درجہ شدت واقع ہو جاتی ہے اور محب جو ہر یک کدورت اور غرض سے مصفا ہے دل کے تمام پردے چیر کر دل کی جڑھ میں اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ گویا اس کی جز ہے تب جس قدر جوش محبت اور پیوند شدید اپنے محبوب سے ہے وہ سب حقیقت میں مادر زاد معلوم ہوتا ہے اور ایسا طبیعت سے ہم رنگ اور اس کی جز ہو جاتا ہے کہ سعی اور کوشش کا ذریعہ ہرگز یاد نہیں رہتا اور جیسے بیٹے کو اپنے باپ کا وجود تصور کرنے سے ایک روحانی نسبت محسوس ہوتی ہے ایسا ہی اس کو بھی ہر وقت باطنی طور پر اس نسبت کا احساس ہوتا رہتا ہے اور جیسے بیٹا اپنے باپ کا حلیہ اور نقوش نمایاں طور پر اپنے چہرہ پر ظاہر رکھتا ہے اور اس کی رفتار اور کردار اور محو اور بو بصفائی نام اس میں پائی جاتی ہے علی ہذا القیاس یہی حال اس میں ہوتا ہے اور اس درجہ اور قرب اوّل کے درجہ میں فرق یہ ہے کہ قرب اوّل کا درجہ جو خادم اور مخدوم سے تشبیہ رکھتا ہے وہ بھی اگر چہ اپنے کمال کے رو سے اس درجہ ثانیہ سے نہایت مشابہ ہے لیکن یہ درجہ اپنی نہایت صفائی کی وجہ سے تعلق مادر زاد کے قائم مقام ہو گیا ہے اور جیسا باعتبار نفس انسانیت کے دوانسان مساوی ہوتے ہیں لیکن بلحاظ شرت وضعف خواص انسانی کے ظہور آثار میں متفاوت واقع ہوتی ہیں ایسا ہی اِن دونوں درجوں میں تفاوت درمیان ہے غرض اس درجہ میں محبت کمال لطافت تک پہنچ جاتی ہے اور مناسبت اور مشابہت بال بال میں ظاہر ہو جاتی ہے۔خیال کرنا چاہئے کہ اگر چہ ایک شخص کمال عشق کی حالت میں اپنے معشوق سے ہم رنگ ہوجاتا ہے۔مگر جو شخص اپنے باپ سے جس سے وہ نکلا ہے مشابہت رکھتا ہے اس کی مشابہت اور ہی آب و تاب رکھتی ہے۔تیسری قسم کا قرب ایک ہی شخص کی صورت اور اس کے عکس سے مشابہت رکھتا ہے یعنی جیسے ایک شخص آئینہ صاف و وسیع میں اپنی شکل دیکھتا ہے تو تمام شکل اس کی معہ اپنے تمام نقوش کے جو اس میں موجود ہیں ا