تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 291

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۱ سورة البقرة عکسی طور پر اس آئینہ میں دکھائی دیتی ہے ایسا ہی اس قسم ثالث قرب میں تمام صفات الہیہ صاحب قرب کے وجود میں یہ تمام تر صفائی منعکس ہو جاتی ہیں۔اور یہ انعکاس ہر یک قسم کی تشبہ سے جو پہلے اس سے بیان کیا گیا ہے اتم و اکمل ہے کیونکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ جیسے ایک شخص آئینہ صاف میں اپنا منہ دیکھ کر اس شکل کو اپنی شکل کے مطابق پاتا ہے وہ مطابقت اور مشابہت اس کی شکل سے نہ کسی غیر کو کسی حیلہ یا تکلف سے حاصل ہو سکتی ہے اور نہ کسی فرزند میں ایسی ہو بہو مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ مرتبہ کس کے لئے میٹر ہے اور کون اس کامل درجہ قرب سے موسوم ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اس کو میسر آتا ہے کہ جو الوہیت و عبودیت کے دونوں قوسوں کے بیچ میں کامل طور پر ہو کر دونوں قوسوں سے ایسا شدید تعلق پکڑتا ہے کہ گویا ان دونوں کا عین ہو جاتا ہے اور اپنے نفس کو بکی درمیان سے اٹھا کر آئینہ صاف کا حکم پیدا کر لیتا ہے اور وہ آئینہ ذو جہتین ہونے کی وجہ سے ایک جہت سے صورت الہیہ بطور ظلی حاصل کرتا ہے اور دوسری جہت سے وہ تمام فیض حسب استعداد و طبائع مختلفہ اپنے مقابلین کو پہنچاتا ہے اس کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ثق دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ آدنی (النجم : ۱)۔(سرمه چشم آری، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۵۲ تا ۲۶۴ حاشیه) اب جاننا چاہئے کہ محبت کوئی تصنع اور تکلف کا کام نہیں بلکہ انسانی قوی میں سے یہ بھی ایک قوت ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ دل کا ایک چیز کو پسند کر کے اس کی طرف کھنچے جانا اور جیسا کہ ہر یک چیز کے اصل خواص اس کے کمال کے وقت بدیہی طور پر محسوس ہوتے ہیں یہی محبت کا حال ہے کہ اس کے جو ہر بھی اس وقت کھلے کھلے ظاہر ہوتے ہیں کہ جب اتم اور اکمل درجہ پر پہنچ جائے اللہ تعالی فرماتا ہے اشرِ بُوا في قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ (البقرة :) یعنی انہوں نے گوسالہ سے ایسی محبت کی کہ گویا ان کو گوسالہ شربت کی طرح پلا دیا گیا۔در حقیقت جو شخص کسی سے کامل محبت کرتا ہے تو گویا اسے پی لیتا ہے یا کھا لیتا ہے اور اس کے اخلاق اور اس کے چال چلن کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے اور جس قدر زیادہ محبت ہوتی ہے اسی قدر انسان بالطبع اپنے محبوب کی صفات کی طرف کھینچا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی کا روپ ہو جاتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔یہی بھید ہے کہ جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے وہ ظلمی طور پر بقد را اپنی استعداد کے اس نور کو حاصل کر لیتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے۔اور شیطان سے محبت کرنے والے وہ تاریکی حاصل کر لیتے ہیں جو شیطان میں ہے پس جبکہ محبت کی حقیقت یہ ہے تو پھر کیوں کر ایک کچی کتاب جو منجانب اللہ ہے اجازت دے سکتی ہے کہ تم شیطان سے وہ محبت کرو جو خدا سے کرنی چاہئے اور شیطان کے جانشینوں سے وہ پیار کرو جو رحمن کے جانشینوں