تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 283

۲۸۳ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں کیا ہے۔جہاں فرمایا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَ الثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ أُوتِيكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتُ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔یہ وہ مصائب ہیں جو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے ڈالتا ہے۔یہ ایک آزمائش ہے جس میں بھی تو انسان پر ایک بھاری درجہ کا ڈر لاحق ہوتا ہے وہ ہر وقت اس خوف میں ہوتا ہے کہ شاید اب معاملہ بالکل بگڑ جائے گا۔بھی فقر و فاقہ شامل حال ہو جاتا ہے۔ہر ایک امر میں انسان کا گذارا بہت تنگی سے ہونے لگتا ہے کبھی مال میں نقصان نمودار ہوتا ہے۔تجارت اور دکانداری بگڑ جاتی ہے۔یا چور لے جاتے ہیں۔کبھی ثمرات میں نقصان ہوتا ہے۔یعنی پھل خراب ہو جاتے ہیں کھیتی ضائع ہو جاتی ہے یا اولا دعزیز مرجاتی ہے۔محاورہ عرب میں اولاد کو بھی شمر کہتے ہیں اولاد کا فتنہ بھی بہت سخت ہوتا ہے اکثر لوگ مجھے گھبرا کر خط لکھتے رہتے ہیں کہ آپ دُعا کریں کہ میری اولاد ہو۔اولاد کا فتنہ ایسا سخت ہے کہ بعض نادان اولاد کے مرجانے کے سبب دہر یہ ہو جاتے ہیں۔بعض جگہ اولا د انسان کو ایسی عزیز ہوتی ہے کہ وہ اس کے واسطے خدا کا ایک شریک بن جاتی ہے بعض لوگ اولاد کے سبب سے دہریہ، ملحد اور بے ایمان بن جاتے ہیں۔بعضوں کے بیٹے عیسائی بن جاتے ہیں تو وہ بھی اولاد کی خاطر عیسائی ہو جاتے ہیں۔بعض بچے چھوٹی عمر میں مرجاتے ہیں۔تو وہ ماں باپ کے واسطے سلپ ایمان کا موجب ہو جاتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔جب کسی پر صدمہ سخت ہو، اور وہ صبر کرے تو جتنا صدمہ ہو۔اتنا ہی اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔خدا تعالی رحیم غفور اور ستار ہے۔وہ انسان کو اس واسطے تکلیف نہیں پہنچا تا کہ وہ تکلیف اٹھا کر دین سے الگ ہو جائے۔بلکہ تکالیف اس واسطے آتی ہیں کہ انسان آگے قدم بڑھائے۔صوفیا کا قول ہے کہ ابتلاء کے وقت فاسق آدمی قدم پیچھے ہٹاتا ہے لیکن صالح آدمی اور بھی قدم آگے بڑھاتا ہے۔( بدر جلدے نمبر ۲ مورخہ ۱۶ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۴، ۵ والحکم جلد ۱۲ نمبر ۵ مورخه ۱۸ /جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۳) انسان نے جو اپنے مالک حقیقی کے مقابل پر اپنا نام بندہ رکھا یا اور إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ کا اقرار کیا یعنی ہمارا مال، جان، بدن ، اولا دسب خدا کی ملک ہے تو اس اقرار کے بعد اس کا کوئی حق نہ رہا جس کا وہ خدا سے مطالبہ کرے۔اسی وجہ سے وہ لوگ جو در حقیقت عارف ہیں باوجود صد با مجاہدات اور عبادات اور خیرات کے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کے رحم پر چھوڑتے ہیں اور اپنے اعمال کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے اور کوئی دعوی نہیں کرتے کہ ہمارا کوئی حق ہے یا ہم کوئی حق بجالائے ہیں کیونکہ در حقیقت نیک وہی ہے جس کی توفیق سے کوئی انسان