تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 282
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۲ سورة البقرة کی مشکلات جھیلتا ہے۔آخر جب طرح طرح کی مشکلات محنتوں اور حفاظتوں کے بعد کھیتی تیار ہوتی ہے تو بعض اوقات خدا کی بار یک در بار یک حکمتوں سے ژالہ باری ہوجاتی یا کبھی خشک سالی ہی کی وجہ سے کھیتی تباہ و برباد ہو جاتی ہے غرض یہ ایک مثال ہے۔اُن مشکلات کی جن کا نام تکالیف قضا و قدر ہے۔ایسی حالت میں مسلمانوں کو جو پاک تعلیم دی گئی ہے وہ کیسی رضا بالقضا کا سچانمونہ اور سبق ہے اور یہ بھی صرف مسلمانوں ہی کا حصہ ہے۔آریہ جو کہ روح اور ذات کو مع ان کے خواص کے خود بخود اور خدا کی طرح ازلی ابدی مانتے ہیں وہ کیونکر انا للہ کہہ سکتے ہیں اور یہ توفیق ان کو کیسے نصیب ہو سکتی ہے۔غرض تکالیف دو ہی قسم کی ہیں ایک حصہ تو وہ ہے جو احکام پر مشتمل ہے۔جن میں نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج وغیرہ داخل ہیں۔ان میں کسی قدر عذر اور حیلے وغیرہ کی بھی گنجائش ہے۔اور جب تک پورا اخلاص اور کامل یقین نہ ہو، انسان ان سے کسی نہ کسی قدر بچنے کی یا آرام کی صورت پیدا کرنے کی کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتا ہے۔پس اس طرح کی کوئی کسر جو انسانی کمزوری کی وجہ سے رہ گئی ہو۔اس کسر کے پورا کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے تکالیف قضا و قدر رکھ دی ہیں۔تاکہ انسانی فطرت کی کمزوری کی وجہ سے جو کمی رہ گئی ہو۔خدا کے فضل کے ہاتھ سے پوری ہو جاوے۔تکالیف قضاء و قدر کا نام آریہ لوگ پہلی بجون کا پھل رکھتے ہیں۔مگر ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر ایسا ہی ہے۔تو پھر تمہارے جب آپ کس مرض کی دوا ہیں ؟ اگر آسمانی تکالیف تمہارے پہلے اعمال کا نتیجہ ہیں تو کیوں ایک اور عذاب جپ تپ کی مصیبت میں پڑ کر اپنے واسطے پیدا کرتے ہو؟ غرض یہ دونوں سلسلے کہ کبھی انسان تکالیف شرعیہ کی پابندی کر کے اپنے ہاتھوں اور کبھی قضاوقدر کے آگے گردن جھکاتا ہے۔اس واسطے ہیں کہ انسان کی تکمیل ہو جاوے۔اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ (البقرة : ۱۱۳) یعنی اسلام کیا ہے؟ یہی کہ اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے حصول کے واسطے گردن ڈال دینا، ابتلاؤں کا ہیبت ناک نظارہ لڑائی میں تنگی تلواروں کی چمک اور کھٹا کھٹ کی طرح آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔جان جانے کا اندیشہ ہے مگر کسی بات کی پرواہ نہ کر کے خدا کے واسطے یہ سب کچھ اپنے نفس پر وارد کر لینا یہ ہے اسلام کی تعلیم کی لب لباب۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۱۰) انسانی مدارج کی ترقی کے واسطے سماوی تکالیف بھی رکھی گئی ہیں۔ان کا ذکر بھی خدا تعالیٰ نے قرآن شریف