تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 274

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۴ سورة البقرة بوریا بستر باندھنا پڑتا ہے۔احکام جلد ۶ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۷) ہماری فطرت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ تکلیف کو بھی چاہتی ہے تاکہ تکمیل ہو جاوے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہی ہوتا ہے جو وہ انسان کو بعض اوقات ابتلاؤں میں ڈال دیتا ہے اس سے اس کی رضا بالقضا اور صبر کی قو تیں بڑھتی ہیں۔جس شخص کو خدا پر یقین نہیں ہوتا ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ ذراسی تکلیف کے پہنچنے پر گھبرا جاتے ہیں اور وہ خود کشی میں آرام دیکھتا ہے۔مگر انسان کی تکمیل اور تربیت چاہتی ہے کہ اس پر اس قسم کے ابتلا آویں اور تا کہ اللہ تعالیٰ پر اس کا یقین بڑھے۔اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے لیکن جن کو تفرقہ اور ابتلا نہیں آتا۔ان کا حال دیکھو کہ کیسا ہوتا ہے وہ بالکل دنیا اور اُس کی خواہشوں میں منہمک ہو گئے ہیں ان کا سر اوپر کی طرف نہیں اُٹھتا۔خدا تعالیٰ کا ان کو بھول کر بھی خیال نہیں آتا۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اعلیٰ درجہ کی خوبیوں کو ضائع کر دیا اور بجائے اس کے ادنیٰ درجہ کی باتیں حاصل کیں کیونکہ ایمان اور عرفان کی ترقی ان کے لئے وہ راحت اور اطمینان کے سامان پیدا کرتی جو کسی مال و دولت اور دنیا کی لذت میں نہیں ہیں۔مگر افسوس کہ وہ ایک بچہ کی طرح آگ کے انگارہ پر خوش ہو جاتے ہیں اور اُس کی سوزش اور نقصان رسانی سے آگاہ نہیں۔لیکن جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے اور جن کو ایمان اور یقین کی دولت سے مالا مال کرتا ہے اُن پر ابتلا آتا ہے۔جو کہتے ہیں کہ ہم پر کوئی ابتلاء نہیں آیا وہ بد قسمت ہیں وہ ناز و نعمت میں رہ کر بہائم کی زندگی بسر کرتے ہیں ان کی زبان ہے مگر وہ حق بول نہیں سکتی خدا کی حمد وثنا اس پر جاری نہیں ہوتی۔بلکہ وہ صرف فسق و فجور کی باتیں کرنے کے لئے اور مزہ چکھنے کے واسطے ہے۔ان کے آنکھیں ہیں مگر وہ قدرت کا نظارہ نہیں دیکھ سکتیں بلکہ وہ بدکاری کے لئے ہیں پھر ان کو خوشی اور راحت کہاں سے میسر آتی ہے، یہ مت سمجھو کہ جس کو ہم و غم پہنچتا ہے وہ بد قسمت ہے۔نہیں خدا اس کو پیار کرتا ہے۔جیسے مرہم لگانے سے پہلے چیرنا اور جراحی کا عمل ضروری ہے اسی طرح خدا کی راہ میں ہم و غم آنا ضروری ہے۔غرض یہ انسانی فطرت میں ایک امر واقعہ شدہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ یہ ثابت کرتا ہے کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے اور اس میں کیا کیا بلائیں اور حوادث آتے ہیں ابتلاؤں میں ہی دُعاؤں کے عجیب و غریب خواص اور کہ اثر ظاہر ہوتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تو دُعاؤں ہی سے پہچانا جاتا ہے دنیا میں جس قدر قو میں ہیں کسی قوم نے ایسا خدا نہیں مانا جو جواب دیتا ہو اور دُعاؤں کو سنتا ہو۔کیا ایک ہندو ایک پتھر کے سامنے بیٹھ کر یا درخت کے آگے کھڑا ہو کر یا بیل کے روبرو ہاتھ جوڑ کر کہہ سکتا ہے کہ میرا خدا ایسا ہے کہ میں اس سے دُعا