تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 275
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۵ سورة البقرة کروں تو یہ مجھے جواب دیتا ہے؟ ہر گز نہیں کیا ایک عیسائی کہہ سکتا ہے کہ میں نے یسوع کو خدا مانا ہے وہ میری دُعا کو سنتا اور اس کا جواب دیتا ہے؟ ہر گز نہیں۔بولنے والا خدا صرف ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے جس نے کہا اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: ٢١) - الحکم جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخه ۱۷ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲،۱) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ الخ کبھی ہم تم کو نہایت فقر و فاقہ سے آزمائیں گے اور بھی تمہارے بچے مر جاویں گے تو جو لوگ مومن ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کا ہی مال تھا۔ہم بھی تو اُسی کے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہی لوگوں نے جو صبر کرتے ہیں میرے مطلب کو سمجھا ہے ان پر میری بڑی رحمتیں ہیں جن کا کوئی حد و حساب نہیں۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۱۱) - کوئی مامور نہیں آتا جس پر ابتلا نہ آئے ہوں۔مسیح علیہ الصلواۃ و السلام کو قید کیا گیا اور کیا کیا اذیت دی گئی۔موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کیا سلوک ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محاصرہ کیا گیا مگر بات یہ ہے کہ عاقبت بخیر ہوتی ہے اگر خدا کی سنت یہ ہوتی کہ مامورین کی زندگی ایک تنظم اور آرام کی ہو اور اس کی جماعت پلاؤ، زردے وغیرہ کھاتی رہے تو پھر اور دنیا داروں میں اور ان میں کیا فرق ہوتا۔پلاؤ، زردے کھا کر حمد اللہ و شکر اللہ کہنا آسان ہے اور ہر ایک بے تکلف کہ سکتا ہے لیکن بات یہ ہے جب مصیبت میں بھی وہ اسی دل سے کہے۔مامورین اور ان کی جماعت کو زلزلے آتے ہیں ، ہلاکت کا خوف ہوتا ہے، طرح طرح کے خطرات پیش آتے ہیں۔گذبُوا کے یہی معنے ہیں، دوسرے ان واقعات سے یہ فائدہ ہے کہ کچوں اور پکوں کا امتحان ہو جاتا ہے کیونکہ جو کچے ہوتے ہیں اُن کا قدم صرف آسودگی تک ہی ہوتا ہے جب مصائب آئے تو وہ الگ ہو جاتے ہیں میرے ساتھ یہی سنت اللہ ہے کہ جب تک ابتلا نہ ہوتو کوئی نشان ظاہر نہیں ہوتا خدا کا اپنے بندوں سے بڑا پیار یہی ہے کہ اُن کو ابتلا میں ڈالے جیسے کہ وہ فرماتا ہے: وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا اَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ یعنی ہر ایک قسم کی مصیبت اور دُکھ میں ان کا رجوع خدا تعالیٰ ہی کی طرف ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے انعامات انہی کو ملتے ہیں جو استقامت اختیار کرتے ہیں خوشی کے ایام اگر چہ دیکھنے کو لذیذ ہوتے ہیں مگر انجام کچھ نہیں ہوتا۔رنگ رلیوں میں رہنے سے آخر خدا کا رشتہ