تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 273

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۳ سورة البقرة نَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ چور لے جاتے ہیں اور اتنا بھی نہیں چھوڑ جاتے کہ صبح کی روٹی کھا سکیں۔سوچوکس قدر تکلیف اور آفت کا سامنا ہوتا ہے۔پھر جانوں کا نقصان ہے بچے مرنے لگ جاتے ہیں ( خدا محفوظ ہی رکھے۔آمین ) یہاں تک کہ ایک بھی نہیں رہتا۔جانوں کے نقصان میں یہ بات داخل ہے کہ خود تو زندہ رہے اور عزیز ومتعلقین مرتے جاویں کس قدر صدمہ ایسے وقت پر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔شمرات میں اولاد بھی داخل ہے اور محنتوں کے بعد آخر کی کامیابیاں بھی مراد ہیں ان کے ضائع ہونے سے بھی سخت صدمہ ہوتا ہے۔امتحان دینے والے اگر کبھی فیل ہو جاتے ہیں تو بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ خود کشیاں کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔غرض اس قسم کے ابتلا جن پر آئیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو بشارت دیتا ہے وکبشر الطبرین یعنی ایسے موقع پر جہد کے ساتھ برداشت کرنے والوں کو خوش خبری اور بشارت ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ یا د رکھو کہ خدا کا خاص بندہ اور مقترب تب ہی ہوتا ہے کہ ہر مصیبت پر خدا ہی کو مقدم رکھے۔غرض ایک وہ حصہ ہوتا ہے جس میں خدا اپنی منوانا چاہتا ہے۔دُعا کے معنی تو یہی ہیں کہ انسان خواہش ظاہر کرتا ہے کہ یوں ہو، پس کبھی مولیٰ کریم کی خواہش مقدم ہونی چاہئے اور کبھی اللہ کریم اپنے بندہ کی خواہش کو پورا کرتا ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ / دسمبر ۱۹۰۰ ء صفحه ۲، ۳) دنیوی بادشاہوں اور حاکموں نے جو اعلیٰ مراتب کے عطا کرنے کے واسطے امتحان مقرر کئے ہیں یہی سنتُ اللہ کے مطابق ہے۔اللہ تعالیٰ بھی بعد امتحانوں کے درجات عطا کرتا ہے۔جن مصائب اور تکالیف کے امتحانات میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پاس ہوئے وہ دوسرے کا کام نہ تھا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۱ صفحه ۴) جن لوگوں کی پاک تبدیلی خدا تعالیٰ دُعاؤں سے چاہتا ہے ان کی تبدیلی اسی طرح پر ہوتی ہے کہ ان پر بلائیں اور خوف آتے ہیں جیسے فرمایا: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ - اگر انسان کے افعال سے گناہ دور ہو جاوے تو شیطان چاہتا ہے کہ آنکھ، کان، ناک تک ہی رہے اور جب وہاں بھی اُسے قابو نہیں ملتا تو پھر وہ یہاں تک کوشش کرتا ہے کہ اور نہیں تو دل ہی میں گناہ رہے۔گویا شیطان اپنی لڑائی کو اختتام تک پہنچاتا ہے۔مگر جس دل میں خدا کا خوف ہے وہاں شیطان کی حکومت نہیں چل سکتی۔شیطان آخر اس سے مایوس ہو جاتا ہے اور الگ ہوتا ہے اور اپنی لڑائی میں ناکام و نامراد ہو کر اسے اپنا