تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 272

۲۲ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یعنی ہم آزماتے رہیں گے کبھی ڈرا کر کبھی بھوک سے کبھی مالوں اور ثمرات وغیرہ کا نقصان کر کے ثمرات میں اولا د بھی داخل ہے اور یہ بھی کہ بڑی محنت سے کوئی فصل تیار کی اور یکا یک اسے آگ لگی اور وہ تباہ ہوگئی یا اور امور کے لئے محنت مشقت کی نتیجہ میں ناکام رہ گیا، غرض مختلف قسم کے اجتلا اور عوارض انسان پر آتے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کی آزمائش ہے ایسی صورت میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی اور اس کی تقدیر کے لئے سر تسلیم خم کرتے ہیں وہ بڑی شرح صدر سے کہتے ہیں إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ کسی قسم کا شکوہ اور شکایت یہ لوگ نہیں کرتے ایسے لوگوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أوتيكَ عَلَيْهِمْ صَلَوت یعنی یہی وہ لوگ ہیں جن کے حصہ میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت آتی ہے اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو مشکلات میں راہ دکھا دیتا ہے یا درکھو اللہ تعالیٰ بڑا ہی کریم و رحیم اور با مروت ہے جب کوئی اس کی رضا کو مقدم کر لیتا ہے اور اس کی مرضی پر راضی ہو جاتا ہے تو وہ اس کو اس کا بدلہ دیئے بغیر نہیں چھوڑتا۔غرض یہ تو وہ مقام اور مرحلہ ہے جہاں وہ اپنی بات منوانی چاہتا ہے دوسرا مقام اور مرحلہ وہ ہے جو اس نے اُدعُونِي اسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: ۶۱) میں فرمایا ہے یہاں وہ اس کی بات ماننے کا وعدہ فرماتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۵ صفحه ۸) چونکہ انسان کو بڑے بڑے ابتلا آتے رہتے ہیں جیسا خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ ہم تمہیں آزماتے رہیں گے کبھی ڈر سے اور کبھی مالوں میں نقصان کرنے سے اور کبھی ثمرات کو تلف کرنے سے۔اتلاف ثمرات سے مراد تفاسیر میں اولاد بھی لکھی ہے۔اور اس میں کوششوں کا ضائع ہونا بھی شامل ہے۔مثلاً حصول علم کی کوشش، تجارت میں کامیابی کی کوشش، زمینداری کی کوشش، غرض ان کوششوں کا ضائع ہونا بڑی مصیبت ہوتی ہے۔ہر وقت انسان کو خیال ہوتا ہے کہ کامیاب ہو جاؤں گا۔آخر خدا تعالیٰ کے علم میں ان کی مصلحت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ وہ ناکام رہے۔یا کھیتی نہیں لگتی یا تجارت میں کامیاب نہیں ہوتے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار امتحان رکھے ہیں ؛ ایک خوف ، دوم بھی نقصان مال اور تیسرے نقصان جان ، چہارم تلف ثمرات۔(رسالہ الانذار صفحه ۳ مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء) وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ۔خوف سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈر ہی ڈر ہے انجام اچھا ہے اس سے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔پھر الجوع فقر وفاقہ تنگ کرتا ہے بعض وقت ایک کر نہ پھٹ جاوے تو دوسرے کی توفیق نہیں ملتی۔جوع کا لفظ رکھ کر عطش کا لفظ چھوڑ دیا ہے کیونکہ یہ جُوع میں داخل ہے۔