تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 271
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۱ سورة البقرة وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ پس صبر کرنے والوں کو بشارت دو۔یہ نہیں فرمایا کہ دُعا کرنے والوں کو بشارت دو بلکہ صبر کرنے والوں کو اس لئے یہ ضروری ہے کہ انسان اگر بظاہر اپنی دعاؤں میں ناکامی دیکھے تو گھبرا نہ جاوے بلکہ صبر اور استقلال سے خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرے۔اہل اللہ کو نظر آ جاتا ہے کہ یہ کام ہو نہار ہے پس جب وہ یہ دیکھتے ہیں تو دُعا کرتے ہیں ورنہ قضا و قدر پر راضی رہتے ہیں۔اہل اللہ کے دو ہی کام ہوتے ہیں جب کسی بلا کے آثار دیکھتے ہیں تو دُعا کرتے ہیں لیکن جب دیکھتے ہیں کہ قضاء وقد راسی طرح پر ہے تو صبر کرتے ہیں۔جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں کی وفات پر صبر کیا جن میں سے ایک بچہ ابراہیم بھی تھا۔جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ دو سیمیں رکھ دی ہیں اور یہ اُس کی سنت ٹھہر چکی ہے اور یہ بھی اُس نے فرمایا ہے: آج تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا (الاحزاب: ۳ اور الفتح: ۲۴) پھر کس قدر غلطی ہے جو انسان اس کے خلاف چاہے۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ انسان کے ساتھ خدا نے دوستانہ معاملہ رکھا ہے بھی ایک دوست دوسرے کی مان لیتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے اور دُعابندہ اور خدا میں بھاجی کی طرح ہے۔اگر انسان یہ سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کمزور رعایا کی طرح ہر بات مان لے تو یہ نقص ہے، ماں بھی بچہ کی ہر بات نہیں مان سکتی۔کبھی بچہ آگ کی انگار یاں مانگتا ہے تو وہ کب دیتی ہے یا مثلاً آنکھیں دکھتی ہوں تو اُسے زنگ یا اور کوئی دواڈالنی ہی پڑتی ہے اسی طرح پر بندہ چونکہ تکمیل کا محتاج ہے اُسے ماروں کی ضرورت ہے تا کہ وہ صدق و وفا اور ثبات قدم میں کامل ثابت ہو۔پھر دعا کرانے والے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ صابر ہو جلد باز نہ ہو جو ذراسی بات پر دجال کہنے کو تیار ہے پس وہ کیا فائدہ اُٹھائے گا۔اسے تو چاہئے کہ صبر کے ساتھ انتظار کرے اور محسن فلن سے کام لے۔جب کہ خدا تعالیٰ نے لنبلونکم فرمایا ہے تو صبر کرنے والوں کے لئے بشارت دی اور أُولَيكَ عَلَيْهِمْ صلوات بھی فرمایا۔میرے نزدیک اس کے یہی معنی ہیں کہ قبولیت دعا کی ایک راہ نکال دیتا ہے حکام کا بھی یہی حال ہے کہ جس پر ناراض ہوتے ہیں اگر وہ صبر کے ساتھ برداشت کرتا اور شکوہ اور بدظنی نہیں کرتا تو اُسے ترقی دے دیتے ہیں قرآن شریف سے صاف پایا جاتا ہے کہ ایمان کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ ابتلا آویں جیسے فرمایا: أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا أَمَنَا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنکبوت: ۳) یعنی کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف امنا کہنے سے چھوڑے جائیں اور وہ فتنوں میں نہ پڑیں۔۔۔۔مصائب اور تکالیف پر اگر صبر کیا جاوے اور خدا تعالیٰ کی قضا کے ساتھ رضا ظاہر کی جاوے تو وہ مشکل کشائی کا مقدمہ ہوتی ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۳، ۱۴)