تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 269

۲۶۹ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام خدا تعالیٰ اپنی بات منواتا ہے۔دو دوستوں کی آپس میں دوستی کے قائم رہنے کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ کبھی اس نے اُس کی بات مان لی اور کبھی اُس نے اس کی بات مان لی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہمیشہ ایک ہی دوسرے کی بات مانتا ہے اور وہ اپنی بات کبھی نہ منائے۔جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ ہمیشہ اس کی دُعا قبول ہوتی رہے اور اسی کی خواہش پوری ہوتی رہے۔وہ بڑی غلطی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے قرآن شریف میں دو آیتیں نازل فرمائی ہیں ، ایک میں فرمایا ہے : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱) تم دُعا مانگو۔میں تمہیں جواب دوں گا دوسری آیت میں فرمایا ہے: وَلَنَتلُونَكُمْ بِشَيْ ءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ الع یعنی ضرور ہے تم پر قسما قسم کے ابتلاء پڑیں اور امتحان آئیں اور آزمائشیں کی جاویں تا کہ تم انعام حاصل کرنے کے مستحق ٹھہرو۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے۔لیکن جو لوگ استقامت اختیار کرتے ہیں خدا ان کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔دُعا کے بعد کامیابی اپنی خواہش کے مطابق ہو یا مصلحت الہی کوئی دوسری صورت پیدا کر دے۔ہر حال میں دُعا کا جواب ضرور خدا تعالیٰ کی طرف سے مل جاتا ہے۔ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ دُعا کے واسطے اس کی حد تک جو ضروری ہے تضرع کی جاوے اور پھر جواب نہ ملے۔(بدرجلد ۲ نمبر ۳۲ مورخہ ۹ راگست ۱۹۰۶ صفحہ ۳ نیز دیکھیں احکام جلد ۱۰ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۶ صفحه ۹) دیکھو ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱ ) یعنی اگر تم مجھ سے مانگو تو قبول کروں گا اور دوسری جگہ فرمایا: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ۔۔۔۔۔۔أُولَيكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ اس سے۔صاف ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے بھی امتحان آیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں انسان اسی واسطے آتا ہے کہ آزمایا جاوے۔اگر وہ اپنی منشاء کے موافق خوشیاں مناتا رہے اور جس بات پر اس کا دل چاہے وہی ہوتا رہے تو پھر ہم اس کو خدا کا بندہ نہیں کہہ سکتے۔اس واسطے ہماری جماعت کو اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے دو طرح کی تقسیم کی ہوئی ہے۔اس لئے اس تقسیم کے ماتحت چلنے کی کوشش کی جاوے۔ایک حصہ تو اس کا یہ ہے کہ وہ تمہاری باتوں کو مانتا ہے اور دوسرا حصہ یہ ہے کہ وہ اپنی منواتا ہے۔جو شخص ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ خدا ہمیشہ اس کی مرضی کے مطابق کرتا رہے اندیشہ ہے کہ شاید وہ کسی وقت مرتد ہو جاوے۔کوئی یہ نہ کہے کہ میرے پر ہی تکلیف اور ابتلا کا زمانہ آیا ہے بلکہ ابتداء سے سب نبیوں پر آتا رہا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کا بیٹا جب فوت ہوا تھا تو کیا انہیں غم نہیں ہوا تھا۔ایک روایت میں لکھا ہے کہ ہمارے