تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 268

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۸ سورة البقرة قرآن شریف غم کی حالت میں نازل ہوا ہے تم بھی اسے غم ہی کی حالت میں پڑھا کرو۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بہت بڑا حصہ غم والم میں گذرا ہے۔تو بہ کے درخت بو لو تا تم اس کے پھل کھاؤ۔تو بہ کا درخت بھی بالکل ایک باغ کے درخت کی مانند ہے۔جو جو حفاظتیں اور خدمات اُس باغ کے لئے جسمانی طور سے ہیں وہی اس تو بہ کے درخت کے واسطے روحانی طور پر ہیں۔پس اگر تو بہ کے درخت کا پھل کھانا چاہو تو اس کے متعلق قوانین اور شرائط کو پورا کرو ورنہ بے فائدہ ہوگا۔الحکم جلد نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱۲، ۱۳) اس سے بڑھ کر انسان کے لئے فخر نہیں کہ وہ خدا کا ہو کر رہے جو اس سے تعلق رکھتے ہیں وہ ان سے مساوات بنالیتا ہے کبھی ان کی مانتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے ایک طرف فرماتا ہے: ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن :۶۱) دوسری طرف فرماتا ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک مقام دُعا کا نہیں ہوتا۔تبلُوَنَّكُمْ کے موقع پر انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنا پڑے گا یہ مقام صبر اور رضا کے ہوتے ہیں لوگ ایسے موقع پر دھوکا کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دُعا کیوں قبول نہیں ہوتی۔ان کا خیال ہے کہ خدا ہماری مٹھی میں ہے جو جب چاہیں گے منوالیں گے بھلا امام حسین علیہ السلام پر جو ابتلا آیا تو کیا انہوں نے دُعانہ مانگی ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قدر بچے فوت ہوئے تو کیا آپ نے دُعانہ کی ہوگی بات یہ ہے یہ مقام صبر اور رضا کے تھے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخه ۲۹/اکتوبر و ۸ / نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۲۱، ۳۲۲) لوگوں کا دستور ہے کہ حالت تنعم میں وہ خدا سے برگشتہ رہتے ہیں اور جب مصیبت اور تکلیف پڑتی ہے تو لمبی چوڑی دُعائیں مانگتے مانتے ہیں اور ذرا سے ابتلاء سے خدا سے قطع تعلق کر لیتے ہیں خدا کو اس شرط پر ماننے کے لئے تیار ہیں کہ وہ ان کی مرضی کے برخلاف کچھ نہ کرے۔حالانکہ دوستی کا اصول یہ ہے کہ بھی اپنی اس سے منوائے اور کبھی اس کی آپ مانے اور یہی طریق خدا نے بھی بتلایا ہے ایک جگہ تو فرماتا ہے : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن :۶۱) کہ تم مانگو تو میں دوں گا یعنی تمہاری بات مانوں گا اور دوسری جگہ اپنی منواتا ہے اور فرماتا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوفِ ال مگر یہاں آج کل لوگ خدا تعالی کو مثل غلام کے اپنی مرضی کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ غوث، قطب، ابدال اور اولیاء وغیرہ جس قدر لوگ ہوئے ہیں اُن کو یہ سب مراتب اسی لئے ملے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم رکھتے چلے آئے۔البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸ /جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۵) جب انسان خدا تعالیٰ سے دُعا کرتا ہے تو اکثر خدا تعالیٰ اپنے بندے کی دُعا قبول کرتا ہے لیکن بعض دفعہ