تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 267

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۷ سورة البقرة ہے وہ اُن کو خوب جانتے ہیں۔بلکہ اُن کو تو معمولی آرام اور آسائش میں وہ چین اور لذت نہیں ہوتی جو دُکھ کے اوقات میں ہوتی ہے۔مثنوی رومی میں ایک حکایت ہے کہ ایک مرض ایسا ہے کہ اس میں جب تک ان کو تھے مارتے کو ٹتے اور لتاڑتے رہتے ہیں تب تک وہ آرام میں رہتا ہے ورنہ تکلیف میں رہتا ہے سو یہی حال اہل اللہ کا ہے کہ جب تک ان کو مصائب و شدائد کے مشکلات آتے رہیں اور اُن کو مار پڑتی رہے تب تک وہ خوش ہوتے اور لذت اُٹھاتے ہیں ورنہ بے چین اور بے آرام رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قادر تھا کہ اپنے بندوں کو کسی قسم کی ایذا نہ پہنچنے دیتا اور ہر طرح سے عیش و آرام میں اُن کی زندگی بسر کرواتا۔اُن کی زندگی شاہانہ زندگی ہوتی۔ہر وقت اُن کے لئے عیش و طرب کے سامان مہیا کئے جاتے مگر اُس نے ایسا نہیں کیا اس میں بڑے اسرار اور راز نہانی ہوتے ہیں دیکھو ایک والدین کو اپنی لڑکی کیسی پیاری ہوتی ہے بلکہ اکثر لڑکوں کی نسبت زیادہ پیاری ہوتی ہیں مگر ایک وقت آتا ہے کہ والدین ان کو اپنے سے الگ کر دیتے ہیں وہ وقت ایسا ہوتا ہے کہ اُس وقت کو دیکھنا بڑے جگر والوں کا کام ہوتا ہے دونوں طرف کی حالت ہی بڑی قابل رحم ہوتی ہے۔قریباً چودہ پندرہ سال ایک جگہ رہے ہوئے ہوتے ہیں آخر ان کی جدائی کا وقت نہایت ہی رقت کا وقت ہوتا ہے اُس جُدائی کو بھی کوئی نادان بے رحمی کہہ دے تو بجا ہے مگر اُس لڑکی میں بعض ایسے قومی ہوتے ہیں جن کا اظہار اس علیحدگی اور سسرال میں جا کر شوہر سے معاشرت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے جو طرفین کے لئے موجب برکت اور رحمت ہوتا ہے۔یہی حال اہل اللہ کا ہے۔ان لوگوں میں بعض خلق ایسے پوشیدہ ہوتے ہیں کہ جب تک اُن پر تکالیف اور شدائد نہ آویں اُن کا اظہار ناممکن ہوتا ہے دیکھو اب ہم لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بیان کرنے میں فخر اور جرات سے کام لیتے ہیں یہ بھی تو صرف اسی وجہ سے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ دونوں زمانے آچکے ہوئے ہیں۔ورنہ ہم یہ فضیلت کس طرح بیان کرتے۔دکھ کے زمانہ کو بری نظر سے نہ دیکھو یہ خدا سے لذت کو اور اُس کے قرب کو اپنی طرف کھینچتا ہے اُس لذت کے حاصل کرنے کے واسطے جو خدا کے مقبولوں کو ملا کرتی ہے دنیوی اور سفلی گل لذات کو طلاق دینی پڑا کرتی ہے۔خدا کا مقرب بننے کے واسطے ضروری ہے کہ دکھ سہتے جاویں۔اور شکر کیا جاوے اور نئے دن ایک نئی موت اپنے اوپر لینی پڑتی ہے جب انسان دنیوی ہوا و ہوس اور نفس کی طرف سے بکلی موت اپنے اوپر وارد کر لیتا ہے تب اسے وہ حیات ملتی ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی۔پھر اس کے بعد مرنا کبھی نہیں ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ