تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 263

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۳ سورة البقرة خدا کی کتاب نے دُعا کے بارہ میں یہ قانون پیش کیا ہے کہ وہ نہایت رحم سے نیک انسان کے ساتھ دوستوں کی طرح معاملہ کرتا ہے یعنی کبھی تو اپنی مرضی کو چھوڑ کر اس کی دُعا سنتا ہے جیسا کہ خود فرمایا: ادْعُوني اَسْتَجِبْ لَكُمْ اور کبھی کبھی اپنی مرضی ہی منوانا چاہتا ہے جیسا کہ فرمایا: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الجوع ایسا اس لئے کیا کہ تا کبھی انسان کی دُعا کے موافق اس سے معاملہ کر کے یقین اور معرفت میں اس کو ترقی دے اور کبھی اپنی مرضی کے موافق کر کے اپنی رضا کی اس کو خلعت بخشے اور اس کا مرتبہ بڑھا دے اور اس سے محبت کر کے ہدایت کی راہوں میں اس کو ترقی دیوے۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱ حاشیه ) یادر ہے کہ مومن کے ساتھ خدا تعالیٰ دوستانہ معاملہ کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کبھی تو وہ مومن کے ارادہ کو پورا کرے اور کبھی مومن اس کے ارادہ پر راضی ہو جائے۔پس ایک جگہ تو مومن کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: أَدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱) یعنی دُعا کرو کہ میں تمہاری دُعا قبول کروں گا۔اس جگہ تو مومن کی خواہش پوری کرنا چاہتا ہے اور دوسری جگہ اپنی خواہش مومن سے منوانا چاہتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْاَمْوَالِ وَ الْأَنْفُسِ وَ الثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصيرِينَ فى الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔افسوس که نادان آدمی صرف ایک پہلو کودیکھتا ہے اور دونوں پہلوؤں پر نظر نہیں ڈالتا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم جلد ۲۱ صفحه ۲۲۶ حاشیه ) یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ یہ خیال کہ مقبولین کی ہر ایک دُعا قبول ہو جاتی ہے یہ سراسر غلط ہے بلکہ حق بات یہ ہے کہ مقبولین کے ساتھ خدا تعالیٰ کا دوستانہ معاملہ ہے کبھی وہ اُن کی دُعائیں قبول کر لیتا ہے اور کبھی وہ اپنی مشیت اُن سے منوانا چاہتا ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ دوستی میں ایسا ہی ہوتا ہے بعض وقت ایک دوست اپنے دوست کی بات کو مانتا ہے اور اُس کی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور پھر دوسرا وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اپنی بات اُس سے منوانا چاہتا ہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں مومنوں کی استجابت دعا کا وعدہ کرتا ہے اور فرماتا ہے: اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱) یعنی تم مجھے سے دُعا کرو میں تمہاری دُعا قبول کروں گا۔اور دوسری جگہ اپنی نازل کردہ قضا و قدر پر خوش اور راضی رہنے کی تعلیم کرتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے: وَلَنَبْلُونَكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ فى الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔پس ان دونوں آیتوں کو ایک جگہ پڑھنے سے صاف معلوم ہو جائے گا کہ دُعاؤں کے بارے میں کیا سنت اللہ ہے اور