تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 262

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۶۲ سورة البقرة یہ آیت وَلَتَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ اصل مفهوم سے پھیری گئی کیونکہ عرف عام میں آزمائش کرنے والا اس نتیجہ سے غافل اور بے خبر ہوتا ہے جو امتحان کے بعد پیدا ہوتا ہے مگر اس سے اس جگہ یہ مطلب نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے امتحان میں ڈالنے سے یہ مطلب ہے کہ تا شخص زیر امتحان پر اس کے اندرونی عیب یا اندرونی خوبیاں کھول دے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۵) یعنی اے مومنو! ہم تمہیں اس طرح پر آزماتے رہیں گے کہ کبھی کوئی خوفناک حالت تم پر طاری ہوگی اور کبھی فقر وفاقہ تمہارے شامل حال ہوگا اور کبھی تمہارا مالی نقصان ہوگا اور کبھی جانوں پر آفت آئے گی اور کبھی اپنی محنتوں میں ناکام رہو گے اور حسب المراد نتیجے کوششوں کے نہیں نکلیں گے اور کبھی تمہاری پیاری اولاد مرے گی۔پس ان لوگوں کو خوشخبری ہو کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کی چیزیں اور اس کی امانتیں اور اس کے مملوک ہیں۔پس حق یہی ہے کہ جس کی امانت ہے اس کی طرف رجوع کرے۔یہی لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہیں جو خدا کی راہ کو پاگئے۔غرض اس خلق کا نام صبر اور رضا برضائے الہی ہے۔اور ایک طور سے اس خُلق کا نام عدل بھی ہے کیونکہ جبکہ خدائے تعالیٰ انسان کی تمام زندگی میں اس کی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور نیز ہزار ہا باتیں اس کی مرضی کے موافق ظہور میں لاتا ہے اور انسان کی خواہش کے مطابق اس قدر نعمتیں اس کو دے رکھی ہیں کہ انسان شمار نہیں کر سکتا تو پھر یہ شرط انصاف نہیں کہ اگر وہ کبھی اپنی مرضی بھی منوانا چاہے تو انسان منحرف ہو۔اور اس کی رضا کے ساتھ راضی نہ ہو اور چون و چرا کرے یا بے دین اور بے راہ ہو جائے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۲) ہم تمہیں خوف اور فاقہ اور مال کے نقصان اور جان کے نقصان اور کوشش ضائع جانے اور اولاد کے فوت ہو جانے سے آزمائیں گے یعنی یہ تمام تکلیفیں قضاء و قدر کے طور پر یا دشمن کے ہاتھ سے تمہیں پہنچیں گی۔سو ان لوگوں کو خوشخبری ہو جو مصیبت کے وقت صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے ہیں اور خدا کی طرف رجوع کریں گے۔ان لوگوں پر خدا کا درود اور رحمت ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے کمال تک پہنچ گئے ہیں۔یعنی محض اس علم میں کچھ شرف اور بزرگی نہیں جو صرف دماغ اور دل میں بھرا ہوا ہو بلکہ حقیقت میں علم وہ ہے کہ دماغ سے اتر کر تمام اعضاء اس سے متاذب اور رنگین ہو جائیں اور حافظہ کی یادداشتیں عملی رنگ میں دکھائی دیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۵)