تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 261

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۶۱ سورة البقرة الثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتَ مِنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَ أُولَبِكَ هُمُ المهتدون (۱۵۸) انسان کو خدا کی طرف سے تسلی پانے کی بڑی بڑی حاجتیں پڑتی ہیں بسا اوقات وہ ایسی سخت مصیبت میں گرفتار ہو جاتا ہے کہ اگر خدا کا کلام آیا نہ ہوتا اور اس کو اپنی اس بشارت سے مطلع نہ کرتا۔وَلَنَبْلُوَلَكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتَ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔تو وہ بے حوصلہ ہوکر شاید خدا کے وجود سے ہی انکار کرتا اور یا نا امیدی کی حالت میں خدا سے بکی رابطہ توڑ دیتا اور یا غموں کے صدمہ سے ہلاک ہو جاتا۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۴۱ حاشیہ نمبر۱۱) خدا تعالی کی انزال رحمت اور روحانی برکت کے بخشنے کے لئے بڑے عظیم الشان دو طریقے ہیں۔(۱) اوّل یہ کہ کوئی مصیبت اور غم و اندوہ نازل کر کے صبر کرنے والوں پر بخشش اور رحمت کے دروازے کھولے جیسا کہ اُس نے خود فرمایا ہے: بَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتَ مِنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَ أُولبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ یعنی ہمارا یہی قانونِ قدرت ہے کہ ہم مومنوں پر طرح طرح کی مصیبتیں ڈالا کرتے ہیں اور صبر کرنے والوں پر ہماری رحمت نازل ہوتی ہے اور کامیابی کی راہیں انہیں پر کھولی جاتی ہیں جو صبر کرتے ہیں۔(۲) دوسرا طریق انزال رحمت کا ارسال مرسلین و مبین و ائمہ و اولیاء وخلفاء ہے۔تا اُن کی اقتداء و ہدایت سے لوگ راہ راست پر آجائیں اور اُن کے نمونہ پر اپنے تئیں بنا کر نجات پا جائیں سوخدائے تعالیٰ نے چاہا کہ اس عاجز کی اولاد کے ذریعہ سے یہ دونوں شق ظہور میں آجائیں۔پس اول اُس نے قسم اول کے انزال رحمت کے لئے بشیر کو بھیجا تا کشّرِ الصّبِرِینَ کا سامان مومنوں کے لئے طیار کر کے اپنی بشیریت کا مفہوم پورا کرے سو وہ ہزاروں مومنوں کے لئے جو اس کی موت کے غم میں محض اللہ شریک ہوئے بطور فرط کے ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کا شفیع ٹھہر گیا اور اندر ہی اندر بہت سی برکتیں ان کو پہنچا گیا۔۔۔۔۔دوسری قسم رحمت کی جو ابھی ہم نے بیان کی ہے اس کی تکمیل کے لئے خدا تعالیٰ دوسرا بشیر بھیجے گا۔سبز اشتہار، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۶۱ تا ۴۶۳ حاشیه )