تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 260

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۰ اور مجھ کو یاد کرو میں تم کو یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور مجھ سے دُعا مانگو۔ سورة البقرة شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۵) اے میرے بندو ! تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھوں گا اور میرا شکر کیا کرو میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الہی کے ترک اور اُس سے غفلت کا نام کفر ہے پس جو دم غافل وہ دم کا فر والی بات صاف ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۸) تم مجھ کو یا درکھو میں تم کو یا د رکھوں گا یعنی آرام اور خوشحالی کے وقت تم مجھ کو یا درکھو اور میرا قرب حاصل کرو البدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۷ را گست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۲۵) تا کہ مصیبت میں تم کو یا درکھوں ۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ کوشش کرو کہ پاک ہو جاؤ کہ انسان پاک کو تب پاتا ہے کہ خود پاک ہو جاوے مگر تم اس نعمت کو کیوں کر پاسکو اس کا جواب خود خدا نے دیا ہے جہاں قرآن میں فرماتا ہے وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ (البقرة : ٢٦) یعنی نماز اور صبر کے ساتھ خدا سے مدد چاہو۔ نماز کیا چیز ہے؟ وہ دُعا ہے جو تسبیح وتحمید، تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔ سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دُعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو کیونکہ ان کی نماز اور ان کا استغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں لیکن تم جب نماز پڑھو تو بجزر قرآن کے جو خدا کا کلام ہے اور بحر بعض ادعیہ ماثورہ کے کہ وہ رسول کا کلام ہے باقی اپنی تمام عام دُعاؤں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متضرعا نہ ادا کر لیا کرو تا کہ تمہارے دلوں پر اس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو۔ صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ مدد چاہو۔ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۶۸، ۶۹ ) (شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۵) وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ ۔ جو لوگ خدا کی راہ میں شہید ہوں ان کو مردے مت کہو۔ (شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۵) جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کئے جاویں اُن کو مردے مت کہو بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہیں۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۳۱ رمتی ۱۹۰۴ صفحه ۳) وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَنْفُسِ وَ