تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 254

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۵۴ سورة البقرة طرف سے رحمان کی خوشبو آ رہی ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کے مراتب معلوم تھے اور ہر ایک کی نورانیت باطنی کا اندازہ اس قلب منور پر مکشوف تھا۔ہاں جو لوگ بیگا نہ ہیں وہ لگا نہ حضرت احدیت کو شناخت نہیں کر سکتے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (الاعراف: ١٩٩) یعنی وہ تیری طرف (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) نظر اُٹھا کر دیکھتے ہیں پر تو انہیں نظر نہیں آتا اور وہ تیری صورت کو دیکھ نہیں سکتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انوار روحانی کا سخت چمکا را بیگانہ محض پر بھی جا پڑتا ہے۔جیسے ایک عیسائی نے جبکہ مباہلہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معه حسنین و حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہم عیسائیوں کے سامنے آئے ، دیکھ کر اپنے بھائیوں کو کہا کہ مباہلہ مت کرو، مجھ کو پروردگار کی قسم ہے کہ میں ایسے منہ دیکھ رہا ہوں کہ اگر اس پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے اٹھ جا تو فی الفور اُٹھ جائے گا۔سوخدا جانے کہ اس وقت نور نبوت و ولایت کیسا جلال میں تھا کہ اس کافر ، بد باطن، سیہ دل کو بھی نظر آ گیا۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ ۵۶۲، ۵۶۳ جدید ایڈیشن) اَلْحَقِّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ اس آیت کا سیاق سباق یعنی اگلی پچھلی آیتوں کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس جگہ نبوت اور قرآن شریف کا کوئی ذکر نہیں۔صرف اس بات کا بیان ہے کہ اب بیت المقدس کی طرف نہیں بلکہ بیت کعبہ کی طرف منہ پھیر کر نماز پڑھنی چاہئے۔سو اللہ جل شانہ اس آیت میں فرماتا ہے کہ یہ ہی حق بات ہے یعنی خانہ کعبہ کی طرف ہی نماز پڑھنا حق ہے جو ابتداء سے مقرر ہو چکا ہے اور پہلی کتابوں میں بطور پیشگوئی اس کا بیان بھی ہے سوٹو (اے پڑھنے والے اس کتاب کے ) اس بارے میں شک کرنے والوں سے مت ہو۔پھر اس آیت کے آگے بھی اسی مضمون کے متعلق آیتیں ہیں چنانچہ فرماتا ہے : وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِن ذَيْكَ (البقرة :۱۵۰) یعنی ہر ایک طرف سے جو تو نکلے تو خانہ کعبہ کی ہی طرف نماز پڑھ یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے غرض صاف ظاہر ہے کہ یہ تمام آیات خانہ کعبہ کے بارے میں ہیں نہ کسی اور تذکرہ کے متعلق اور چونکہ یہ حکم جو خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کے لئے صادر ہوا ایک عام حکم ہے جس میں سب مسلمان داخل ہیں لہذا بوجہ عموم منشاء حکم بعض وسوسے والی طبیعیتوں کا وسوسہ ڈور کرنے کے لئے ان آیات میں اُن کو تسلی دی گئی کہ اس بات سے متردد نہ ہوں کہ پہلے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے پڑھتے اب اُس طرف سے ہٹ کر خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنا کیوں شروع کر دیا سوفرمایا کہ یہ