تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 244
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۴ سورة البقرة ہمارے لئے ایک نیا خدا ہو جائے۔یہی فتح حقیقی ہے جس کے کئی شعبوں میں سے ایک شعبہ مکالمات الہیہ بھی ہیں۔مجموعہ اشتہارات جلد اول ۱۵۷ صفحه جدید ایڈیشن) مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے اور نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جاوے۔گویا اس کے قومی خدا تعالیٰ کے لئے مرجاتے ہیں گویا وہ اس کی راہ میں ذبح ہو جاتا ہے۔جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اس اسلام کا نمونہ دکھلایا کہ ارادہ الہی کی بجا آوری میں اپنے نفس کو ذرا بھی دخل نہ دیا اور ایک ذرا سے اشارہ سے بیٹے کو ذبح کرنا شروع کر دیا۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۳۴) لا اله الا اللہ ایک قول ہے اس کا عملی ثبوت بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فعل ہے نا قول (ایمان کا دعویٰ) کسی کام کا نہیں اور نہ ہی وہ کچھ مفید ہو سکتا ہے۔خشک ایمان ایک بے بال و پر مرغ کی مثال ہے۔جو ایک مضغہ گوشت ہے جو نہ چل پھر سکتا ہے نہ اُڑنے کی اس میں طاقت ہے۔بلکہ اسلام اس کو کہتے ہیں کہ انسان با وجود ہیبت ناک نظارے دیکھنے اور اس امر کا یقین ہونے کے کہ اس مقام پر کھڑا ہونا ہی گویا جان کو خطرہ میں ڈالنا ہے پھر بھی خدا کی راہ میں سر ڈال دے اور خدا کی راہ میں اپنے کسی نقصان کی پرواہ نہ کرے جنگ کے موقع پر سپاہی جانتا ہے کہ میں موت کے منہ میں جارہا ہوں اور اُسے یہ نسبت زندہ پھر نے کے مرنا یقینی نظر آتا ہے مگر بایں ہمہ وہ اپنے افسر کی فرماں برداری اور وفاداری کر کے آگے ہی بڑھتا ہے۔اور کسی خطرے کی پرواہ نہیں کرتا اس کا نام اسلام ہے۔غرض ایک فقرہ (لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ) میں تو اللہ تعالیٰ نے تو حید سکھائی ہے اور دوسرے (مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ ) میں یہ سکھایا کہ اس توحید پر سچے اور زندہ ایمان کا ثبوت اپنے اس فعل سے دو اور خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو۔ق الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴ / جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۸) یہ دونوں سلسلے کہ کبھی انسان تکالیف شرعیہ کی پابندی کر کے اپنے ہاتھوں اور کبھی قضا و قدر کے آگے گردن جھکاتا ہے اس واسطے ہیں کہ انسان کی تکمیل ہو جاوے۔اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلہ یعنی اسلام کیا ہے؟ یہی کہ اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے حصول کے واسطے گردن ڈال دینا ابتلاؤں کا ہیبت ناک نظارہ لڑائی میں ننگی تلواروں کی چمک اور کھٹا کھٹ کی طرح آنکھوں کے سامنے موجود ہے جان جانے کا اندیشہ ہے۔مگر کسی بات کی پرواہ نہ کر کے خدا کے واسطے یہ سب کچھ اپنے نفس پر وارد کر لینا یہ ہے اسلام کی تعلیم کی۔۔۔۔کپ کباب۔(الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۱۰)