تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 243
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۳ سورة البقرة انسان کو ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف کرے۔میں نے بعض اخبارات میں پڑھا ہے کہ فلاں آریہ نے اپنی زندگی آریہ سماج کے لئے وقف کر دی ہے اور فلاں پادری نے اپنی عمر مشن کو دے دی ہے مجھے حیرت آتی ہے کہ کیوں مسلمان اسلام کی خدمت کے لئے اور خدا کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف نہیں کر دیتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ پر نظر کر کے دیکھیں تو اُن کو معلوم ہو کہ کس طرح اسلام کی زندگی کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی جاتی تھیں۔یاد رکھو یہ خسارہ کا سودا نہیں ہے بلکہ بے قیاس نفع کا سودا ہے کاش مسلمانوں کو معلوم ہوتا اور اس تجارت کے مفاد اور منافع پر ان کو اطلاع ملتی جو خدا کے لئے اُس کے دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرتا ہے کیا وہ اپنی زندگی کھوتا ہے؟ ہرگز نہیں فلة أجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - اس الہی وقف کا اجر اُن کا رب دینے والا ہے۔یہ وقف ہر قسم کے ہموم و عموم سے نجات اور رہائی بخشنے والا ہے۔۔۔۔میں خود جو اس راہ کا پورا تجربہ کار ہوں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور فیض سے میں نے اس راحت اور لذت سے حظ اٹھایا ہے یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کے لئے اگر مر کے پھر زندہ ہوں اور پھر مروں اور زندہ ہوں تو ہر بار میرا شوق ایک لذت کے ساتھ بڑھتا ہی جاوے۔پس میں چونکہ خود تجربہ کار ہوں اور تجربہ کر چکا ہوں اور اس وقف کے لئے اللہ تعالی نے مجھے وہ جوش عطا فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ اس وقف میں کوئی ثواب اور فائدہ نہیں ہے بلکہ تکلیف اور دُکھ ہو گا تب بھی میں اسلام کی خدمت سے رُک نہیں سکتا۔(الحکم جلد ۴ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ راگست ۱۹۰۰ صفحه ۴،۳) اسلام اللہ تعالیٰ کے تمام تصرفات کے نیچے آجانے کا نام ہے اور اس کا خلاصہ خدا کی سچی اور کامل اطاعت ہے۔مسلمان وہ ہے جو اپنا سارا وجود خدا تعالیٰ کے حضور رکھ دیتا ہے بدوں کسی امید پاداش کے مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ۔اسلام کی فتح حقیقی اس میں ہے کہ جیسے اسلام کے لفظ کا مفہوم ہے۔اُسی طرح ہم اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کے حوالہ کر دیں اور اپنے نفس اور اس کے جذبات سے بکلی خالی ہوجائیں۔اور کوئی بت ہوا اور ارادہ اور مخلوق پرستی کا ہماری راہ میں نہ رہے۔اور بکلی مرضیات الہیہ میں محو ہو جائیں۔اور بعد اس فنا کے وہ بقا ہم کو حاصل ہو جائے جو ہماری بصیرت کو ایک دوسرا رنگ بخشے۔اور ہماری معرفت کو ایک نئی نورائیت عطا کرے اور ہماری محبت میں ایک جدید جوش پیدا کرے اور ہم ایک نئے آدمی ہو جائیں۔اور ہمارا وہ قدیم خدا بھی الحکم جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۲ صفحه ۶)