تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 242
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۲ سورة البقرة وجود کی علت غائی یہ ہے کہ نوع انسان خدا کے لئے پیدا کی گئی ہے۔پس انسانی وضع استقامت یہ ہے کہ جیسا کہ وہ اطاعت ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے ایسا ہی درحقیقت خدا کے لئے ہو جائے۔اور جب وہ اپنے تمام قومی سے خدا کے لئے ہو جائے گا تو بلاشبہ اس پر انعام نازل ہوگا جس کو دوسرے لفظوں میں پاک زندگی کہہ سکتے ہیں۔( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۴۵،۳۴۴) عَلى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ وَهُوَ مُحْسِنُ۔یعنی اسلام کے دو ٹکڑے ہیں ؛ ایک یہ کہ خدا کی رضا میں ایسا محو ہو جانا کہ اپنی رضا چھوڑ کر اُس کی رضا جوئی کیلئے اُس کے آستانہ پر سر رکھ دینا اور دوسرے عام طور پر تمام بنی نوع سے نیکی کرنا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۹) مسلمان وہی ہے جو اسلم وَجْهَهُ لِلهِ کا مصداق ہو گیا ہو۔وجہ مونہہ کو کہتے ہیں۔مگر اُس کا اطلاق ء ذات اور وجود پر بھی ہوتا ہے۔پس جس نے ساری طاقتیں اللہ کے حضور رکھ دی ہوں وہی سچا مسلمان کہلانے کا مستحق ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۷۹ ۸۰) سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے تا کہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ اس لیلی وقف کی طرف ایما کر کے فرماتا ہے : مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اس جگہ اسلم وَجْهَهُ لِلہ کے معنے یہیں ہیں کہ ایک نیستی اور تذلیل کا لباس پہن کر آستانہ الوہیت پر گرے اور اپنی جان مال آبرو غرض جو کچھ اس کے پاس ہے خدا ہی کے لئے وقف کرے۔اور دنیا اور اُس کی ساری چیزیں دین کی خادم بنادے کوئی یہ نہ سمجھ لیوے کہ انسان دنیا سے کچھ غرض اور واسطہ ہی نہ رکھے۔میرا یہ مطلب نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ دنیا کے حصول سے منع کرتا ہے بلکہ اسلام نے رہبانیت کو منع فرمایا ہے، یہ بزدلوں کا کام ہے۔مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں کیونکہ اس کے نصب العین دین ہوتا ہے اور دنیا ( اور ) اس کا مال وجاہ دین کا خادم ہوتا ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو بلکہ حصول دنیا میں اصل غرض دین ہو اور ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیا جاوے کہ وہ دین کی خادم ہو۔جیسے انسان کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے واسطے سفر کے لئے سواری یا اور زادراہ کو ساتھ لیتا ہے تو اس کی اصل غرض منزل مقصود پر پہنچنا ہوتا ہے نہ خود سواری اور راستہ کی ضروریات اسی طرح پر انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲۹ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۰ صفحه ۳)