تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 240

۲۴۰ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعبیر کرتے ہیں اور جب محبت الہی بندہ کی محبت پر نازل ہوتی ہے تب دونوں محبتوں کے ملنے سے روح القدس کا ایک روشن اور کامل سایہ انسان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے اور لقا کے مرتبہ پر اس روح القدس کی روشنی نہایت ہی نمایاں ہوتی ہے اور اقتداری خوارق جن کا ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں اسی وجہ سے ایسے لوگوں سے صادر ہوتے ہیں کہ یہ روح القدس کی روشنی ہر وقت اور ہر حال میں ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اُن کے اندر سکونت رکھتی ہے اور وہ اُس روشنی سے کبھی اور کسی حال میں جدا نہیں ہوتے اور نہ وہ روشنی ان سے جدا ہوتی ہے۔وہ روشنی ہر دم اُن کے تنفس کے ساتھ نکلتی ہے اور اُن کی نظر کے ساتھ ہر ایک چیز پر پڑتی ہے۔اور اُن کی کلام کے ساتھ اپنی نورانیت لوگوں کو دکھلاتی ہے اس روشنی کا نام روح القدس ہے مگر یہ حقیقی روح القدس نہیں حقیقی روح القدس وہ ہے جو آسمان پر ہے یہ روح القدس اُس کا ظل ہے جو پاک سینوں اور دلوں اور دماغوں میں ہمیشہ کے لئے آباد ہو جاتا ہے اور ایک طرفتہ العین کے لئے بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا اور جو شخص تجویز کرتا ہے کہ یہ روح القدس کسی وقت اپنی تمام تاثیرات کے ساتھ ان سے جدا ہو جاتا ہے وہ شخص سراسر باطل پر ہے اور اپنے پر ظلمت خیال سے خدا تعالیٰ کے مقدس برگزیدوں کی توہین کرتا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ حقیقی روح القدس تو اپنے مقام پر ہی رہتا ہے لیکن روح القدس کا سایہ جس کا نام مجاز اروح القدس ہی رکھا جاتا ہے اُن سینوں اور دلوں اور دماغوں اور تمام اعضاء میں داخل ہوتا ہے جو مرتبہ بقا اور لقا کا پاکر اس لائق ٹھہر جاتے ہیں کہ اُن کی نہایت اصفی اور اعلی محبت پر خدا تعالیٰ کی کامل محبت اپنی برکات کے ساتھ نازل ہو۔اور جب وہ روح القدس نازل ہوتا ہے تو اس انسان کے وجود سے ایسا تعلق پکڑ جاتا ہے کہ جیسے جان کا تعلق جسم سے ہوتا ہے وہ قوت بینائی بن کر آنکھوں میں کام دیتا ہے اور قوت شنوائی کا جامہ پہن کر کانوں کو روحانی حش بخشتا ہے وہ زبان کی گویائی اور دل کے تقویٰ اور دماغ کی ہشیاری بن جاتا ہے اور ہاتھوں میں بھی سرایت کرتا ہے اور پیروں میں بھی اپنا اثر پہنچاتا ہے۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۷ تا ۷۳) نجات یافتہ وہ شخص ہے جو اپنے وجود کو خدا کے لئے اور خدا کی راہ میں قربانی کی طرح رکھ دے اور نہ صرف نیت سے بلکہ نیک کاموں سے اپنے صدق کو دکھلاوے۔جو شخص ایسا کرے اس کا بدلہ خدا کے نزدیک مقرر ہو چکا اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ ہمگین ہوں گے۔(اسلامی اصول کی فلسفی، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۵۲۵) ۱۰ ہماری استقامت یہ ہے کہ جیسا وہ فرماتا ہے کہ : بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ یعنی یہ کہ قربانی کی طرح میرے آگے گردن رکھ دو۔ایسا ہی ہم اس وقت درجہء استقامت حاصل کریں گے کہ جب