تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 239
۲۳۹ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام پر دے دور ہو جا ئیں اور نہایت لطیف اور شیریں اور حلاوت سے ملی ہوئی ایک محبت دل میں پیدا ہو جو پہلے نہیں تھی اور ایک ایسی خنکی اور اطمینان اور سکینت اور سرور دل کو محسوس ہو کہ جیسے ایک نہایت پیارے دوست مدت کے بچھڑے ہوئے کی یکدفعہ ملنے اور بغل گیر ہونے سے محسوس ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے روشن اور لذیذ اور مبارک اور سرور بخش اور فصیح اور معطر اور مبشرانہ کلمات اُٹھتے اور بیٹھتے اور سوتے اور جاگتے اس طرح پر نازل ہونے شروع ہو جائیں کہ جیسے ایک ٹھنڈی اور دلکش اور پر خوشبو ہوا ایک گلزار پر گزر کر آتی اور صبح کے وقت چلنی شروع ہوتی اور اپنے ساتھ ایک شکر اور سرور لاتی ہے۔اور انسان خدا تعالیٰ کی طرف ایسا کھینچا جائے کہ بغیر اُس کی محبت اور عاشقانہ تصور کے جی نہ سکے اور نہ یہ کہ مال اور جان اور عزت اور اولاد اور جو کچھ اس کا ہے قربان کرنے کے لئے طیار ہو بلکہ اپنے دل میں قربان کر ہی چکا ہو اور ایسی ایک زبردست کشش سے کھینچا گیا ہو جو نہیں جانتا کہ اسے کیا ہو گیا اور نورانیت کا بشدت اپنے اندر انتشار پاوے جیسا کہ دن چڑھا ہوا ہوتا ہے اور صدق اور محبت اور وفا کی نہریں بڑے زور سے چلتی ہوئی اپنے اندر مشاہدہ کرے اور لمحہ بہ لحد ایسا احساس کرتا ہو کہ گویا خدا تعالیٰ اُس کے قلب پر اُترا ہوا ہے۔جب یہ حالت اپنی تمام علامتوں کے ساتھ محسوس ہو تب خوشی کرو اور محبوب حقیقی کا شکر بجالاؤ کہ یہی وہ انتہائی مقام ہے جس کا نام لقار کھا گیا ہے۔اس آخری مقام میں انسان ایسا احساس کرتا ہے کہ گویا بہت سے پاک پانیوں سے اُس کو دھو کر اور نفسانیت کا بکی رگ وریشہ اس سے الگ کر کے نئے سرے اُس کو پیدا کیا گیا اور پھر رب العالمین کا تخت اس کے اندر بچھایا گیا اور خدائے پاک و قدوس کا چمکتا ہوا چہرہ اپنے تمام دلکش حسن و جمال کے ساتھ ہمیشہ کے کا ؟ لئے اُس کے سامنے موجود ہو گیا ہے مگر ساتھ اس کے یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ یہ دونوں آخری درجہ بقا اور لقا کے کیسی نہیں ہیں بلکہ وہی ہیں اور کسب اور جدوجہد کی حد صرف فنا کے درجہ تک ہے اور اسی حد تک تمام راست باز سالکوں کا سیر و سلوک ختم ہوتا ہے اور دائرہ کمالات انسانیہ کا اپنے استدارت تامہ کو پہنچتا ہے اور جب اس درجہ فنا کو پاک باطن لوگ جیسا کہ چاہئے طے کر چکتے ہیں تو عادتِ الہیہ اسی طرح پر جاری ہے کہ بیک دفعہ عنایت الہی کی نیم چل کر بقا اور لقا کے درجہ تک انہیں پہنچادیتی ہے۔اب اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اس سفر کی تمام صعوبتیں اور مشقتیں فنا کی حد تک ہی ہیں اور پھر اس سے آگے گذر کر انسان کی سعی اور کوشش اور مشقت اور محنت کو دخل نہیں بلکہ وہ محبت صافیہ جو فنا کی حالت میں خداوند کریم و جلیل سے پیدا ہوتی ہے الہی محبت کا خود بخود اُس پر ایک نمایاں شعلہ پڑتا ہے جس کو مرتبہ بقا اور لقا