تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 238
۲۳۸ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نظر سے دیکھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک مورد رحم ہو جاتا ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کا گنج دائمی طور پر نتیجہ مقصودہ کو بلا تخلف پیدا کرتا ہے ایسا ہی اُس کا گن بھی اس جموج اور مد کی حالت میں خطا نہیں جاتا۔اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں ان اقتداری خوارق کی اصل وجہ یہی ہوتی ہے کہ یہ شخص شدت اتصال کی وجہ سے خدائے عزوجل کے رنگ سے ظلی طور پر رنگین ہو جاتا ہے اور تجلیات الہیہ اس پر دائمی قبضہ کر لیتے ہیں اور محبوب حقیقی حجب حائلہ کو درمیان سے اٹھا کر نہایت شدید قرب کی وجہ سے ہم آغوش ہو جاتا ہے اور جیسا کہ وہ خود مبارک ہے ایسا ہی اس کے اقوال و افعال و حرکات اور سکنات اور خوراک اور پوشاک اور مکان اور زمان اور اس کے جمیع لوازم میں برکت رکھ دیتا ہے تب ہر یک چیز جو اس سے مش کرتی ہے بغیر اس کے جو یہ دُعا کرے برکت پاتی ہے۔اس کے مکان میں برکت ہوتی ہے اس کے دروازوں کے آستانے برکت سے بھرے ہوتے ہیں اس کے گھر کے دروازوں پر برکت برستی ہے جو ہر دم اس کو مشاہدہ ہوتی ہے اور اس کی خوشبو اس کو آتی ہے جب یہ سفر کرے تو خدا تعالیٰ معہ اپنی تمام برکتوں کے اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب یہ گھر میں آوے تو ایک دریا نور کا ساتھ لاتا ہے غرض یہ عجیب انسان ہوتا ہے جس کی گنہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ فنافی اللہ کے درجہ کی تحقیق کے بعد یعنی اس درجہ کے بعد جو أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ کے مفہوم کو لازم ہے جس کو صوفی فنا کے نام سے اور قرآن کریم استقامت کے اسم سے موسوم کرتا ہے درجہ بقا اور لقا کا بلا توقف پیچھے آنے والا ہے یعنی جب کہ انسان خلق اور ہوا اور ارادہ سے بکلی خالی ہو کر فنا کی حالت کو پہنچ گیا تو اس حالت کے راسخ ہونے کے ساتھ ہی بقا کا درجہ شروع ہو جاتا ہے مگر جب تک یہ حالت راسخ نہ ہو اور خدا تعالیٰ کی طرف بکلی جھک جانا ایک طبیعی امر نہ ٹھہر جائے تب تک مرتبہ بقا کا پیدا نہیں ہو سکتا بلکہ وہ مرتبہ صرف اسی وقت پیدا ہوگا کہ جب ہر یک اطاعت کا تصنع درمیان سے اٹھ جائے اور ایک طبعی روئیدگی کی طرح فرمانبرداری کی سرسبز اور اہراتی ہوئی شاخیں دل سے جوش مار کر نکلیں اور واقعی طور پر سب کچھ جو اپنا سمجھا جاتا ہے خدا تعالیٰ کا ہو جائے اور جیسے دوسرے لوگ ہوا پرستی میں لذت اٹھاتے ہیں اس شخص کی تمام کامل لذتیں پرستش اور یاد الہی میں ہوں۔اور بجائے نفسانی ارادوں کے خدا تعالیٰ کی مرضیات جگہ پکڑ لیں۔پھر جب یہ بقا کی حالت بخوبی استحکام پکڑ جائے اور سالک کے رگ وریشہ میں داخل ہو جائے اور اُس کا جز و وجود بن جائے اور ایک نور آسمان سے اتر تا ہوا دکھائی دے جس کے نازل ہونے کے ساتھ ہی تمام