تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 237

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۷ سورة البقرة خارقِ عادت امور کی وجہ سے کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیا جائے اگر ایسے ہی خوارق سے انسان خدا بن سکتا ہے تو پھر خداؤں کا کچھ انتہا بھی ہے؟ لیکن یہ بات اس جگہ یا درکھنے کے لائق ہے کہ اس قسم کے اقتداری خوارق گو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتے ہیں مگر پھر بھی خدا تعالیٰ کے ان خاص افعال سے جو بلا توسط ارادہ غیرے ظہور میں آتے ہیں کسی طور سے برابری نہیں کر سکتے اور نہ برابر ہونا ان کا مناسب ہے اسی وجہ سے جب کوئی نبی یا ولی اقتداری طور پر بغیر توسط کسی دُعا کے کوئی ایسا امر خارق عادت دکھلاوے جو انسان کو کسی حیلہ اور تدبیر اور علاج سے اس کی قوت نہیں دی گئی تو نبی کا وہ فعل خدا تعالیٰ کے ان افعال سے کم رتبہ پر رہے گا جو خود خدا تعالیٰ علانیہ اور بالجبیر اپنی قوت کا ملہ سے ظہور میں لاتا ہے یعنی ایسا اقتداری معجزہ بہ نسبت دوسرے الہی کاموں کے جو بلا واسطہ اللہ جن شاعہ سے ظہور میں آتے ہیں ضرور کچھ نقص اور کمزوری اپنے اندر موجود رکھتا ہوگا تا سرسری نگاہ والوں کی نظر میں تشابہ فی الخلق واقع نہ ہو۔اسی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا با وجود اس کے کئی دفعہ سانپ بنا لیکن آخر عصا کا عصا ہی رہا۔اور حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کے مٹی ہی تھے اور کہیں خدا تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا کہ وہ زندہ بھی ہوگئیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق میں چونکہ طاقت الہی سب سے زیادہ بھری ہوئی تھی کیونکہ وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تجلیات الہیہ کے لئے آئم واعلیٰ وارفع و اکمل نمونہ تھا اس لئے ہماری نظریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق کو کسی درجہ بشریت پر مقرر کرنے سے قاصر ہیں مگر تا ہم ہمارا اس پر ایمان ہے کہ اس جگہ بھی اللہ جل شانہ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل میں مخفی طور پر کچھ فرق ضرور ہو گا۔اب ان تحریرات سے ہماری غرض اس قدر ہے کہ لقا کا مرتبہ جب کسی انسان کو میسر آتا ہے تو اس مرتبہ کے تموج کے اوقات میں الہی کام ضرور اس سے صادر ہوتے ہیں اور ایسے شخص کی گہری صحبت میں جو شخص ایک حصہ عمر کا بسر کرے تو ضرور کچھ نہ کچھ یہ اقتداری خوارق مشاہدہ کرے گا کیونکہ اس تموج کی حالت میں کچھ الہی صفات کا رنگ فلی طور پر انسان میں آجاتا ہے یہاں تک کہ اس کا رحم خدا تعالی کا رحم اور اس کا غضب خدا تعالیٰ کا غضب ہو جاتا ہے اور بسا اوقات وہ بغیر کسی دُعا کے کہتا ہے کہ فلاں چیز پیدا ہو جائے تو وہ پیدا ہو جاتی ہے اور کسی پر غضب کی نظر سے دیکھتا ہے تو اس پر کوئی وبال نازل ہو جاتا ہے اور کسی کو رحمت کی