تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 236

۲۳۶ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھا۔اور اس قسم کے اور بھی بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دُعا نہ تھی۔کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جوصرف ایک پیالہ میں تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزار ہا بھوکوں پیاسوں کا ان سے شکم سیر کر دیا اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا اور بعض اوقات شور آب کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اس کو نہایت شیریں کر دیا۔اور بعض اوقات سخت مجروحوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو اچھا کر دیا۔اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جاپڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔ایسا ہی اور بھی بہت سے کام اپنے ذاتی اقتدار سے کئے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الہی مخلوہ تھی۔حال کے برہمو اور فلسفی اور نیچری اگر ان معجزات سے انکار کریں تو وہ معذور ہیں کیونکہ وہ اس مرتبہ کو شناخت نہیں کر سکتے جس میں ظلی طور پر الہی طاقت انسان کو ملتی ہے پس اگر وہ ایسی باتوں پر ہنسیں تو وہ اپنے ہننے میں بھی معذور ہیں کیونکہ انہوں نے بجز طفلانہ حالت کے اور کسی درجہ روحانی بلوغ کو طے نہیں کیا اور نہ صرف اپنی حالت ناقص رکھتے ہیں بلکہ اس بات پر خوش ہیں کہ اسی حالت ناقصہ میں مریں بھی۔مگر زیادہ تر افسوس ان عیسائیوں پر ہے جو بعض خوارق اسی کے مشابہ مگر ان سے ادنی حضرت مسیح میں سن سنا کر ان کی الوہیت کی دلیل ٹھہرا بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کا مردوں کا زندہ کرنا اور مفلوجوں اور مجذوموں کا اچھا کرنا اپنے اقتدار سے تھا کسی دُعا سے نہیں تھا اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ وہ حقیقی طور پر ابن اللہ بلکہ خدا تھا۔لیکن افسوس کہ ان بیچاروں کو بر نہیں کہ اگر انہیں باتوں سے انسان خدا بن جاتا ہے تو اس خدائی کا زیادہ تر استحقاق ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے کیونکہ اس قسم کے اقتداری خوارق جس قدر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے ہیں حضرت مسیح علیہ السلام ہر گز دکھلا نہیں سکے اور ہمارے ہادی و مقتد اصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اقتداری خوارق نہ صرف آپ ہی دکھلائے بلکہ ان خوارق کا ایک لمبا سلسلہ روز قیامت تک اپنی اُمت میں چھوڑ دیا جو ہمیشہ اور ہر زمانہ میں حسب ضرورت زمانہ ظہور میں آتا رہا ہے اور اس دنیا کے آخری دنوں تک اسی طرح ظاہر ہوتا رہے گا اور الہی طاقت کا پر توہ جس قدر اس اُمت کی مقدس رُوحوں پر پڑا ہے اس کی نظیر دوسری امتوں میں ملنی مشکل ہے پھر کس قدر بے وقوفی ہے کہ ان