تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 8
سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام (جس کی ذات مخفی در مخفی ہے ) ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سے خدا کی راہ میں کچھ دیتے اور اُس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تیرے پر نازل ہوئی اور نیز اُن کتابوں پر ایمان لاتے ہیں جو تجھ سے پہلے نازل ہوئیں وہی لوگ خدا کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی ہیں جو نجات پائیں گے۔۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ نے ان آیات میں فیصلہ کر دیا ہے اور نجات پانا صرف اسی بات میں حصر کر دیا ہے کہ لوگ خدا تعالی کی کتابوں پر ایمان لاویں اور اس کی بندگی کریں۔خدا تعالیٰ کے کلام میں تناقض اور اختلاف نہیں ہو سکتا پس جبکہ اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت سے نجات کو وابستہ کر دیا ہے تو پھر بے ایمانی ہے کہ ان آیات قطعیۃ الدلالت سے انحراف کر کے متشابہات کی طرف دوڑیں، متشابہات کی طرف وہی لوگ دوڑتے ہیں جن کے دل نفاق کی مرض سے بیمار ہوتے ہیں۔اور ان آیات میں جو معرفت کا نکتہ مخفی ہے وہ یہ ہے کہ آیات ممدوحہ بالا میں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ الم ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کی یعنی یہ وہ کتاب ہے جو خدا تعالیٰ کے علم سے ظہور پذیر ہوئی ہے اور چونکہ اس کا علم جہل اور نسیان سے پاک ہے اس لئے یہ کتاب ہر ایک شک وشبہ سے خالی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا علم انسانوں کی تکمیل کے لئے اپنے اندر ایک کامل طاقت رکھتا ہے اس لئے یہ کتاب متقین کے لئے ایک کامل ہدایت ہے اور اُن کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جو انسانی فطرت کی ترقیات کے لئے آخری مقام ہے اور خدا ان آیات میں فرماتا ہے کہ متقی وہ ہیں کہ جو پوشیدہ خدا پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سے کچھ خدا کی راہ میں دیتے ہیں اور قرآن شریف اور پہلی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں وہی ہدایت کے سر پر ہیں اور وہی نجات پائیں گے۔ان آیات سے یہ تو معلوم ہوا کہ نجات بغیر نبی کریم پر ایمان لانے اور اس کی ہدایات نماز وغیرہ کے بجالانے کے نہیں مل سکتی۔اور جھوٹے ہیں وہ لوگ جو نبی کریم کا دامن چھوڑ کر محض خشک توحید سے نجات ڈھونڈھتے ہیں مگر یہ عقدہ قابل مل رہا کہ جبکہ وہ لوگ ایسے راستباز ہیں کہ پوشیدہ خدا پر ایمان لاتے اور نماز بھی ادا کرتے اور روزہ بھی رکھتے ہیں اور اپنے مالوں میں سے خدا کی راہ میں کچھ دیتے ہیں اور قرآن شریف اور پہلی کتابوں پر ایمان بھی رکھتے ہیں تو پھر یہ فرمانا کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی اُن کو یہ کتاب ہدایت دے گی اس کے کیا معنی ہیں وہ تو ان سب باتوں کو بجالا کر پہلے ہی سے ہدایت یافتہ ہیں اور حاصل شدہ کو حاصل کرانا یہ تو ایک امر عبث معلوم ہوتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ باوجود ایمان اور عمل صالح کے کامل استقامت اور کامل ترقی کے محتاج ہیں