تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 230
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۰ سورة البقرة فرقان (الانفال :۳۰) کہ اے ایمان والو اگر تم خدا تعالی سے ڈرو تو خدا تم میں اور تمہارے غیروں میں مابہ الامتیا ز رکھ دے گا۔وو ق ( جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۴۳ تا ۱۴۶) فرمایا : بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔یعنی وہ لوگ نجات یافتہ ہیں جو خدا کو اپنا وجود حوالہ کر دیں اور اس کی نعمتوں کے تصور سے اس طور سے اس کی عبادت کریں کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہیں۔سو ایسے لوگ خدا کے پاس سے اجر پاتے ہیں اور نہ ان کو کچھ خوف ہے اور نہ وہ کچھ غم کرتے ہیں۔یعنی ان کا مدعا خدا اور خدا کی محبت ہو جاتی ہے اور خدا کے پاس کی نعمتیں ان کا اجر ہوتا ہے۔(مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۲۲۱) خدا تعالیٰ نے جیسے ابتداء سے انسان کی فطرت میں ایک ملکہ گناہ کرنے کا رکھا۔ایسا ہی گناہ کا علاج بھی اسی طرز سے اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے جیسے کہ وہ خود فرماتا ہے: بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ تَحْسِنَ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : ۱۱۳) یعنی جو شخص اپنے تمام وجود کو خدا تعالیٰ کی راہ میں سونپ دیوے اور پھر اپنے تئیں نیک کاموں میں لگا دیوے تو اس کو ان کا اجر اللہ تعالیٰ سے ملے گا۔اور ایسے لوگ بے خوف اور بے غم ہیں۔اب دیکھئے کہ یہ قاعدہ کہ تو بہ کر کے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور اپنی زندگی کو اس کی راہ میں وقف کر دینا یہ گناہ کے بخشے جانے کے لئے ایک ایسا صراط مستقیم ہے کہ کسی خاص زمانہ تک محدود نہیں جب سے انسان اس مسافر خانہ میں آیا تب سے اس قانون کو اپنے ساتھ لایا۔جیسے اس کی فطرت میں ایک شق یہ موجود ہے کہ گناہ کی طرف رغبت کرتا ہے ایسا ہی یہ دوسراشق بھی موجود ہے کہ گناہ سے نادم ہو کر اپنے اللہ کی راہ میں مرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔زہر بھی اسی میں ہے اور تریاق بھی اسی میں ہے۔یہ نہیں کہ زہر اندر سے نکلے اور تریاق جنگلوں سے تلاش کرتے پھریں۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۰۰،۱۹۹) واضح ہو کہ لغت عرب میں اسلام اس کو کہتے ہیں کہ بطور پیشگی ایک چیز کا مول دیا جائے اور یا یہ کہ کسی کو اپنا کام سونپیں اور یا یہ کہ صلح کے طالب ہوں اور یا یہ کہ کسی امر یا خصومت کو چھوڑ دیں۔اور اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ بلی من اَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَكَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے