تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 231

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٢٣١ سورة البقرة ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے وقف کر د یوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اُس کی راہ میں لگا دیوے مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جاوے۔اعتقادی طور پر اس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو در حقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خدا تعالی کی شناخت اور اس کی طاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔اور عملی طور پر اس طرح سے کہ خالصاً للہ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر یک خداداد اور توفیق سے وابستہ ہیں بجالا وے مگر ایسے ذوق و شوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے۔پھر بقیہ ترجمہ آیت کا یہ ہے کہ جس کی اعتقادی و عملی صفائی ایسی محبت ذاتی پر مبنی ہو اور ایسے طبعی جوش سے اعمال حسنہ اُس سے صادر ہوں وہی ہے جو عند اللہ سحق اجر ہے اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ کچھ غم رکھتے ہیں یعنی ایسے لوگوں کے لئے نجات نقد موجود ہے کیونکہ جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پر ایمان لا کر اس سے موافقت تامہ ہوگئی اور ارادہ اس کا خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہمرنگ ہو گیا اور تمام لذت اس کی فرمانبرداری میں ٹھہر گئی اور جمیع اعمال صالحہ نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تلذ ذ اور احتظاظ کی کشش سے صادر ہونے لگے تو یہی وہ کیفیت ہے جس کو فلاح اور نجات اور رستگاری سے موسوم کرنا چاہئے اور عالم آخرت میں جو کچھ نجات کے متعلق مشہود ومحسوس ہوگا وہ در حقیقت اس کیفیت راسخہ کے اظلال و آثار ہیں جو اس جہان میں جسمانی طور پر ظاہر ہو جائیں گے۔مطلب یہ ہے کہ بہشتی زندگی اسی جہان سے شروع ہو جاتی ہے اور جہنمی عذاب کی جڑھ بھی اسی جہان کی گندی اور کورانہ زیست ہے۔اب آیات ممدوحہ بالا پر ایک نظر غور ڈالنے سے ہر یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کی حقیقت تب کسی میں متحقق ہو سکتی ہے کہ جب اس کا وجود معہ اپنے تمام باطنی و ظاہری قویٰ کے محض خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی راہ میں وقف ہو جاوے اور جو امانتیں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں پھر اسی معطی حقیقی کو واپس دی جائیں اور نہ صرف اعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اسلام اور اس کی حقیقت کاملہ کی ساری شکل دکھلائی جاوے یعنی شخص مدعی اسلام یہ بات ثابت کر دیوے کہ اس کے ہاتھ اور پیر اور دل اور دماغ اور اس کی عقل اور اس کا فہم اور اس کا غضب اور اس کا رحم اور اس کا حلم اور اس کا علم اور اس کی تمام روحانی اور جسمانی