تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 219

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۹ سورة البقرة کے ساتھ رہے کیونکہ وہ اپنے اصلی وجود کے ساتھ تو آسمان پر ہی ہے اور اسی مذہب کی تصدیق اور تصویب شیخ عبد الحق محدث دہلی نے اپنی کتاب مدارج النبوۃ کے صفحہ ۴۵ میں کی ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ نزولِ جبرائیل جو بعض اوقات دحیہ کلبی کی صورت میں یا کسی اور انسان کی صورت میں ہوتا تھا اس میں اہل نظر کو اشکال ہے اور یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر در حقیقت جبرائیل علیہ السلام ایک نیا جسم اپنے لئے مشابہ جسم دحیہ کلبی حاصل کر کے اس میں اپنا روح داخل کر دیتے تھے تو پھر وہ اصلی جسم ان کا جس کے تین سو جناح ہیں کس حالت میں ہوتا تھا کیا وہ جسد بے روح پڑا رہتا تھا اور حضرت جبرائیل فوت ہو کر پھر بطریق تناسخ دوسرے جسم میں آجاتے تھے۔اس کے جواب میں وہ لکھتے ہیں کہ اہل تحقیق کے نزدیک یہ تمثلی نزول ہے نہ حقیقی تا حقیقتاً ایک جسم کو چھوڑنا اور دوسرے جسم میں داخل ہونا لازم آوے۔پھر لکھتے ہیں بات یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے ذہن میں جو دحیہ کلبی کی صورت علمیہ تھی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام بوجہ قدرت کاملہ وارادت شاملہ اپنی کے اس صورت پر اپنے وجود کا افاضہ مع جمیع صفات کا ملہ اپنی کے کر کے تمقل کے طور پر اس میں اپنے تئیں ظاہر کر دیتے تھے یعنی دحیہ کلبی کی صورت میں بطور تمقل اپنے تئیں دکھلا دیتے تھے اور اس صورت علمیہ کو اپنی صفات سے متلبس کر کے نبی علیہ السلام پر مثلا ظاہر کر دیتے تھے یہ نہیں کہ جبرائیل آپ اپنے اصلی وجود کے ساتھ آسمان سے اتر تا تھا بلکہ جبرائیل علیہ السلام اپنے مقام پر آسمان میں ثابت وقائم رہتا تھا اور یہ جبرائیل اس حقیقی جبرائیل کی ایک مثال تھی یعنی اس کا ایک طال تھا اس کا عین نہیں تھا کیونکہ عین جبرائیل تو وہ ہے جو اپنی صفات خاصہ کے ساتھ آسمان پر موجود ہے اور اس کی حقیقت اور شان الگ ہے۔پھر اس قدر تحریر کے بعد شیخ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ جس طرح جبرائیل علیہ السلام تمقلی صورت میں نہ حقیقی صورت میں نازل ہوتا رہا ہے۔یہی مثال روحانیات کی ہے جو بصورت جسمانیات متمقل ہوتی ہیں اور یہی مثال خدا تعالیٰ کے تمثل کی بھی ہے جو اہل کشف کو صورت بشر پر نظر آتا ہے اور یہی مثال مکمل اولیا کی ہے جو مواضع متفرقہ میں پھور متعددہ نظر آ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ شیخ بزرگ عبد الحق محدث کو جزاء خیر دیوے کیونکہ انہوں نے بصدق دل قبول کر لیا کہ جبرائیل علیہ السلام بذات خود نازل نہیں ہوتا بلکہ ایک تم تمقلی وجود انبیاء علیہم السلام کو دکھائی دیتا ہے اور جبرائیل اپنے مقام آسمان میں ثابت و برقرار ہوتا ہے۔یہ وہی عقیدہ اس عاجز کا ہے جس پر حال کے کور باطن نام کے علماء