تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 215

۲۱۵ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام روحانی ارادہ کو بمنصہ ظہور لانے کے لئے ایک عضو کی طرح بن کر خدمت بجا لاوے جیسا کہ جسمانی ارادوں کے پورا کرنے کے لئے بجالا رہے ہیں سو وہ وہی عضو ہے جس کو دوسرے لفظوں میں جبریل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو بہ تبعیت حرکت اس وجودِ اعظم کے سچ سچ ایک عضو کی طرح بلا توقف حرکت میں آجاتا ہے یعنی جب خدائے تعالیٰ محبت کرنے والے دل کی طرف محبت کے ساتھ رجوع کرتا ہے تو حسب قاعدہ مذکورہ بالا جس کا ابھی بیان ہو چکا ہے جبریل کو بھی جو سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدائے تعالیٰ سے نسبت رکھتا ہے اُس طرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی ہے۔یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کی جنبش کے ساتھ ہی وہ بھی بلا اختیار و بلا ارادہ اسی طور سے جنبش میں آجاتا ہے کہ جیسا کہ اصل کی جنبش سے سامیہ کا ملنا طبعی طور پر ضروری امر ہے۔پس جب جبریلی نور خدائے تعالیٰ کی کشش اور تحریک اور طلحہ نورانیہ سے جنبش میں آ جاتا ہے تو معاً اس کی ایک عکسی تصویر جس کو روح القدس کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہیئے محبت صادق کے دل میں منقش ہو جاتی ہے۔اور اس کی محبت صادقہ کا ایک عرض لازم ٹھہر جاتی ہے تب یہ قوت خدائے تعالیٰ کی آواز سننے کے لئے کان کا فائدہ بخشتی ہے اور اس کے عجائبات کے دیکھنے کے لئے آنکھوں کی قائم مقام ہو جاتی ہے اور اس کے الہامات زبان پر جاری ہونے کے لئے ایک ایسی محترک حرارت کا کام دیتی ہے جو زبان کے پہیہ کو زور کے ساتھ الہامی خط پر چلاتی ہے اور جب تک یہ قوت پیدا نہ ہو اس وقت تک انسان کا دل اندھے کی طرح ہوتا ہے اور زبان اس ریل کی گاڑی کی طرح ہوتی ہے جو چلنے والے انجن سے الگ پڑی ہو۔لیکن یادر ہے کہ یہ قوت جو روح القدس سے موسوم ہے ہر ایک دل میں یکساں اور برابر پیدا نہیں ہوتی بلکہ جیسے انسان کی محبت کامل یا ناقص طور پر ہوتی ہے اسی اندازہ کے موافق یہ جبریلی نور اس پر اثر ڈالتا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ روح القدس کی قوت جو دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے دل میں جبریلی نور کے پر تو ہ سے پیدا ہو جاتی ہے اس کے وجود کے لئے یہ امر لازم نہیں کہ ہر وقت انسان خدائے تعالیٰ کا پاک کلام سنتا ہی رہے یا کشفی طور پر کچھ دیکھتا ہی رہے بلکہ یہ تو انوار سماویہ کے پانے کے لئے اسباب قریبہ کی طرح ہے یا یوں کہو کہ یہ ایک روحانی روشنی روحانی آنکھوں کے دیکھنے کے لئے یا ایک روحانی ہوا روحانی کانوں تک آواز پہنچانے کے لئے منجانب اللہ ہے اور ظاہر ہے کہ جب تک کوئی چیز سامنے موجود نہ ہو مجرد روشنی کچھ دکھا نہیں سکتی۔اور جب تک منتظم کے منہ سے کلام نہ نکلے مجرد ہوا کانوں تک کوئی خبر نہیں پہنچا سکتی۔سوید روشنی یا یہ ہوا روحانی حواس کے لئے محض ایک آسمانی مؤید عطا کیا جاتا ہے جیسے ظاہری آنکھوں کے لئے