تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 212
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٢١٢ سورة البقرة ہوا۔یہ دونوں خیال یہودیوں اور عیسائیوں کے غلط ہیں اور کسی کو ان دونوں گروہ میں سے ان خیالات پر دلی یقین نہیں بلکہ دلی ایمان اُن کا صرف اسی پر ہے کہ مسیح یقینی طور پر مصلوب نہیں ہوا۔اس تقریر سے خدائے تعالیٰ کا یہ مطلب تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی خاموشی سے منصفین قطعی طور پر سمجھ لیویں کہ اس بارے میں بجر شک کے اُن کے پاس کچھ نہیں اور یہودی اور عیسائی جو اس آیت کو سُن کر چپ رہے اور انکار کے لئے میدان میں نہ آئے تو اس کی یہ وجہ تھی کہ وہ خوب جانتے تھے کہ اگر ہم مقابل پر آئے اور وہ دعویٰ کیا جو ہمارے دل میں نہیں تو ہم سخت رُسوا کئے جائیں گے اور کوئی ایسا نشان خدائے تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہو جائے گا جس سے ہمارا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے گا۔اس لئے انہوں نے دم نہ مارا اور چپ رہے۔اور اگر چہ وہ خوب جانتے تھے کہ ہماری اس خاموشی سے ہمارا مان لینا ثابت ہو جائے گا جس سے ایک طرف تو ان کفار کے اس عقیدہ کی بیخ کنی ہوگی اور ایک طرف یہ یہودی عقیدہ باطل ثابت ہو جائے گا کہ مسیح خدائے تعالی کا سچا رسول اور راستباز نہیں اور اُن میں سے نہیں جن کا خدائے تعالیٰ کی طرف عزت کے ساتھ رفع ہوتا ہے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی چمکتی ہوئی تلوار اُن کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔پس جیسا کہ قرآن شریف میں انہیں کہا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو لیکن مارے خوف کے کسی نے یہ تمنانہ کی۔اسی طرح اس جگہ بھی مارے خوف کے انکار نہ کر سکے۔یعنی یہ دعوی نہ کر سکے کہ ہم تو مسیح کے مصلوب ہونے پر یقین رکھتے ہیں ہمیں کیوں بے یقینوں میں داخل کیا جاتا ہے؟ سو اُن کا نبی کے زمانہ میں خاموشی اختیار کرنا ہمیشہ کے لئے حجت ہو گئی اور اُن کے ساختہ پر داختہ کا اثر اُن کی آنے والی ذریتوں پر بھی پڑا کیونکہ سلف خلف کے لئے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنیوالی ذریت کو ماننی پڑتی ہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۹۳،۲۹۲) قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ جبریل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیر سے تعلق رکھتا ہے اس کو کئی قسم کی خدمات سپرد ہیں انہیں خدمات کے موافق جو اس کے نیر سے لئے جاتے ہیں سو وہ فرشتہ اگر چہ ہر یک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے جو وحی الہی سے مشرف کیا گیا ہو ( نزول کی اصل کیفیت جوصرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر یا د رکھنی چاہئے )۔