تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 209
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۹ سورة البقرة جب کہ حقیقت میں اس کا دل خدا سے برگشتہ ہو کر سیاہ ہو جائے اور خدا کی رحمت سے بے نصیب اور خدا کی محبت سے بے بہرہ اور خدا کی معرفت سے بکلی تہی دست اور خالی اور شیطان کی طرح اندھا اور بے بہرہ ہوکر گمراہی کے زہر سے بھرا ہوا ہو اور خدا کی محبت اور معرفت کا نور ایک ذرہ اس میں باقی نہ رہے اور تمام تعلق مہر و وفا کا ٹوٹ جائے اور اس میں اور خدا میں باہم بغض اور نفرت اور کراہت اور عداوت پیدا ہو جائے۔یہاں تک کہ خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے۔غرض ہر ایک صفت میں شیطان کا وارث ہو جائے اور اسی وجہ سے عین شیطان کا نام ہے۔مسیح ہندوستان میں ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۸،۱۷) لغت کی کتابوں میں صاف لکھا ہوا ہے کہ لعین شیطان کا نام ہے اور ملعون وہ شخص ہوتا ہے جس کا خدا سے الحکم جلد ۶ نمبر ۴ مورخه ۳۱/جنوری ۱۹۰۲ صفحه ۳) کوئی تعلق نہ ہو اور وہ خدا سے دور ہو۔لعنت کا تعلق دل سے ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ ملعون خدا کا اور خدا ملعون کا دشمن ہو جاوے اور خدا سے اس کا کوئی تعلق نہ رہے اور وہ خدا سے برگشتہ ہو جاوے۔(الحکم جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخہ ۷ ار جولائی ۱۹۰۲ صفحہ ۷) خدا کے نزدیک لعنت وہ نہیں ہوتی جو کہ عام لوگوں کے نزدیک ہوتی ہے بلکہ خدا کی لعنت سے مراد دنیا اور آخرت کی لعنت ہے (یعنی ہر ) دو کی ذلت ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۳۲ مورخه ۲۸ راگست ۱۹۰۳ صفحه ۲۵۰) لسان العرب میں کہ جو لغت کی ایک پرانی کتاب اسلامی تالیفات میں سے ہے۔اور ایسا ہی قطر المحیط اور محیط اور اقرب الموارد میں جو دو عیسائیوں کی تالیفات ہیں۔جو حال میں بمقام بیروت چھپ کر شائع ہوئی ہیں۔اور ایسا ہی کتب لغت کی تمام کتابوں میں جو دنیا میں پائی جاتی ہیں لعنت کے معنی یہ لکھے ہیں۔اللَّعْن الإبعادُ وَالطَّرْدُ مِنَ الْخَيْرِ وَ مِنَ اللهِ وَمِنَ الْخَلْقِ وَمَنْ أَبَعَدَهُ اللهُ لَمْ تَلْحَقْهُ رَحْمَتُهُ وَخُلِدَ فِي الْعَذَابِ وَاللَّعِيْنُ الشَّيْطَانُ وَالْمَبْسُوحُ وَقَالَ الشَّمَاحُ مَقَامُ الذِّنْبِ كَالرَّجُلِ اللَّعِينِ - یعنی لعنت کا مفہوم یہ ہے کہ لعنتی اُس کو کہتے ہیں جو ہر یک خیر و خوبی اور ہر قسم کی ذات صلاحیت اور خدا کی رحمت اور خدا کی معرفت سے بنگی بے بہرہ اور بے نصیب ہو جائے۔اور ہمیشہ کے عذاب میں پڑے یعنی اُس کا دل بکلی سیاہ ہو جائے اور بڑی نیکی سے لے کر چھوٹی نیکی تک کوئی خیر کی بات اُس کے نفس میں باقی نہ رہے۔اور شیطان بن جائے اور اُس کا اندر مسخ ہو جائے۔یعنی کتوں اور سوروں اور بندروں کی خاصیت اُس