تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 204

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۴ سورة البقرة أَوَّلَ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ فَكَلَّمَهُ اللَّهُ مِنْ وَحْيِهِ بِمَا أَرَادَ فَيَمْضِي بِهِ جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ الصَّلُوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى الْمَلَائِكَةِ كُلِّهَا مِنْ سَمَاءِ إِلَى سَمَاءٍ يَسْئَلُهُ مَلَائِكَتُهَا مَاذَا قَالَ رَبُّنَا يَا جِبْرَائِيلُ فَيَقُولُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ فَيَقُولُونَ كُلُّهُمْ مِثْلَ مَا قَالَ جِبْرَائِيلُ فَيَنْتَهِي جِبْرَائِيلُ بِالْوَحْيِ إِلى حَيْثُ أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۔ یعنی نواس بن سمعان سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس وقت خدا تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ کوئی امر وحی اپنی طرف سے نازل کرے تو بطور وحی منتظم ہوتا ہے یعنی ایسا کلام کرتا ہے جو ابھی اجمال پر مشتمل ہوتا ہے اور ایک چادر پوشیدگی کی اُس پر ہوتی ہے تب اُس محجوب المفہوم کلام سے ایک لرزہ آسمانوں پر پڑ جاتا ہے جس سے وہ ہولناک کلام تمام آسمانوں میں پھر جاتا ہے اور کوئی نہیں سمجھتا کہ اس کے کیا معنی ہیں اور خوف الہی سے ہر ایک فرشتہ کا نپنے لگتا ہے کہ خدا جانے کیا ہونے والا ہے اور اُس ہولناک آواز کو سن کر ہر ایک فرشتہ پر غشی طاری ہو جاتی ہے اور وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں ۔ پھر سب سے پہلے جبرائیل علیہ الصلوۃ والسّلام سجدہ سے سر اٹھاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس وحی کی تمام تفصیلات اُس کو سمجھا دیتا ہے اور اپنی مراد اور منشاء سے مطلع کر دیتا ہے تب جبرائیل اُس وحی کو لے کر تمام فرشتوں کے پاس جاتا ہے جو مختلف آسمانوں میں ہیں اور ہر ایک فرشتہ اُس سے پوچھتا ہے کہ یہ آواز ہولناک کیسی تھی اور اس سے کیا مراد تھی تب جبرائیل اُن کو یہ جواب دیتا ہے کہ یہ ایک امر حق ہے اور خدا تعالیٰ بلند اور نہایت بزرگ ہے یعنی یہ وحی اُن حقائق میں سے ہے جن کا ظاہر کرنا اُس الْعَلِيُّ الْكَبِیر نے قرین مصلحت سمجھا ہے تب وہ سب اُس کے ہم کلام ہو جاتے ہیں۔ پھر جبرائیل اس وحی کو اس جگہ پہنچا دیتا ہے جس جگہ پہنچانے کے لئے اُس کو حکم تھا خواہ آسمان یا زمین ۔ اب اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نزول وحی کے وقت جبرائیل آسمان پر ہی ہوتا ہے اور پھر جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اُس کی آواز میں قوت اور قدرت بخشی ہے اپنے محل میں اُس وحی کو پہنچا دیتا ہے۔ اس صورت میں یہ عقیدہ رکھنا کہ گویا جبرائیل اپنے اصلی وجود کے ساتھ آسمانوں سے ہجرت کر کے حضرت عیسیٰ کے پاس آ گیا تھا اور تینتیس برس برابر ان کے پاس رہا اور وہ تمام خدمات جو آسمانوں پر اُس کے سپر دتھیں جن کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں وہ تینتیس برس تک معرض التوا میں رہیں کیسا باطل عقیدہ ہے جس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وحی بغیر توسط جبرائیل کے خود بخودزمین پر نازل ہوتی تھی اور زمین پر ہی وہ وحی جبرائیل کو مل جاتی تھی ۔