تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 205

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۵ سورة البقرة دوسری بات ناظرین کی توجہ کے لائق یہ ہے کہ ان مولویوں نے بات بات میں حضرت عیسی کو بڑھایا اور ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی۔غضب کی بات ہے کہ ان کا عقیدہ حضرت مسیح کی نسبت تو یہ ہو کہ کبھی روح القدس اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا اور مسن شیطان سے وہ بری تھے اور یہ دونوں باتیں انہیں کی خصوصیت تھی لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ان کا یہ اعتقاد ہو کہ نہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت اُن کے پاس رہا اور نہ وہ نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد ) مسن شیطان سے بری تھے۔باوجود ان باتوں کے یہ ( لوگ مسلمان کہلا دیں ان کی نظر میں ہمارے سید و مولی محمد صلی اللہ علیہ وسلم مردہ مگر حضرت عیسی اب تک زندہ۔اور عیسی کے لئے رُوح القدس دائی رفیق مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ ! اس نعمت سے بے بہرہ اور حضرت عیسیٰ مس شیطان سے محفوظ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ نہیں۔جن لوگوں کے یہ عقائد ہوں اُن کے ہاتھ سے جس قدر دین اسلام کو اس زمانہ میں نقصان پہنچ رہا ہے کون اس کا اندازہ کر سکتا ہے یہ لوگ چھپے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں۔چاہیئے کہ ہر یک مسلمان اور سچا عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پر ہیز کرے۔سلف صالح کو سراسر شرارت کی راہ سے اپنے اقوال مردودہ کے ساتھ شامل کرنا چاہتے - ہیں حالانکہ اپنی نا بینائی کی وجہ سے سلف صالح کے اقوال کو سمجھ نہیں سکتے اور نہ احادیث نبویہ کی اصل حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں صرف دھوکہ دینے کی راہ سے کہتے ہیں کہ اگر ہمارا یہ حال ہے تو یہی عقیدہ سلف صالح کا ہے۔اے نادانو! یہ سلف صالح کا ہر گز طریقہ نہیں۔اگر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ اعتقادر رکھتے کہ کبھی یا مدتوں تک آپ سے روح القدس عبدا بھی ہو جاتا تھا تو وہ ہرگز ہر ایک وقت اور ہر یک زمانہ کی احادیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ نہ کرتے ان کی نظر تو اس آیت پر تھی۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الهَوى اِنْ هُوَ إِلا وفى يولى (النجم : ۵،۴) اگر صحابہ تمہاری طرح مسن شیطان کا اعتقاد رکھتے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سید المعصومین کیوں قرار دیتے خدا تعالی سے ڈرو کیوں افترا پر کمر باندھی ہے۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۰۴ تا ۱۱۲) روح القدس کا تعلق تمام نبیوں اور پاک لوگوں سے ہوتا ہے پھر مسیح کی اس سے کیا خصوصیت ہے ؟ اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی خصوصیت نہیں بلکہ اعظم اور اکبر حصہ روح القدس کی فطرت کا حضرت سید نامحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔لیکن چونکہ یہود شریر الطبع نے حضرت مسیح پر یہ بہتان لگایا تھا کہ ان کی ولادت