تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 203
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۳ سورة البقرة ایسی بدگمانی کرتے ہیں اور اس قدر سخت بد زبانی کر کے پھر خاصے مسلمان کے مسلمان اور دوسرے لوگ ان کی نظر میں کافر ہیں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۲ تا ۷۶ ) اس کی تفسیر میں تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ روح القدس ہر وقت قرین اور رفیق حضرت عیسی کا تھا اور ایک دم بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا دیکھو تفسیر حسینی ، تفسیر مظہری، تفسیر عزیزی، معالم، ابن کثیر وغیرہ اور مولوی صدیق حسن فتح البیان میں اس آیت کی تفسیر میں یہ عبارت لکھتے ہیں وَ كَانَ جِبْرَائِيلُ يَسِيرُ مَعَ عِيسَى حَيْثُ سَارَ فَلَمْ يُفَارِقُهُ حَتَّى صَعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ۔یعنی جبرائیل ہمیشہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ ہی رہتا تھا ایک طرفہ العین بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ ان کے ساتھ ہی آسمان پر گیا۔اس جگہ دو باتیں نہایت قابل افسوس ناظرین کی توجہ کے لائق ہیں۔(۱) اول یہ کہ ان مولویوں کا تو یہ اعتقاد تھا کہ جبرائیل وحی لے کر آسمان سے نبیوں پر وقتاً فوقتاً نازل ہوتا تھا اور تبلیغ وحی کر کے پھر بلا توقف آسمان پر چلا جاتا تھا۔اب مخالف اس عقیدہ کے حضرت عیسی کی نسبت ایک نیا عقیدہ تراشا گیا اور وہ یہ کہ حضرت عیسی کی وحی کے لئے جبرائیل آسمان پر نہیں جاتا تھا بلکہ وحی خود بخود آسمان سے گر پڑتی تھی اور جبرائیل ایک طرفہ العین کے لئے بھی حضرت عیسی سے جدا نہیں ہوتا تھا اُسی دن آسمان کا منہ جبرائیل نے بھی دیکھا جب حضرت عیسیٰ آسمان پر تشریف لے گئے ورنہ پہلے اس سے تینتیس برس تک برابر دن رات زمین پر رہے اور ایک دم کے لئے بھی حضرت عیسیٰ سے جدا نہیں ہوئے اور برابر تینتیس برس تک اپنا وہ آسمانی مکان جو ہزار کوس کے طول و عرض سے کچھ کم نہیں ویران سنسان چھوڑ دیا حالانکہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ ایک دم کے لئے بھی آسمان بقدر بالشت بھی فرشتوں سے خالی نہیں رہتا۔اور تینتیس برس تک جو حضرت عیسی کو وحی پہنچاتے رہے اس کی طر ز بھی سب انبیاء سے نرالی نکلی کیونکہ بخاری نے اپنی صحیح میں اور ایسا ہی ابوداؤد اور ترمندی اور ابن ماجہ نے اور ایسا ہی مسلم نے بھی اس پر اتفاق کیا ہے کہ نزول جبرائیل کا وحی کے ساتھ انبیاء پر وقتا فوقتا آسمان سے ہوتا ہے ( یعنی وہ پہلی جس کی ہم تصریح کر آئے ہیں ) اور اس کی تائید میں ابن جریر اور ابن کثیر نے یہ حدیث بھی لکھی ہے۔عَنِ النَّواسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أنْ يُوحَى بِأَمْرِهِ تَكَلَّمَ بِالْوَحْيِ فَإِذَا تَكَلَّمَ أَخَذَتِ السَّمْوَاتُ مِنْهُ رَجْفَةٌ أَوْ قَالَ رَعْدَةٌ شَدِيدَةٌ مِنْ خَوْفِ اللهِ تَعَالَى فَإِذَا سَمِعَ بِذلِكَ أَهْلُ السَّمَوَاتِ صَعِفُوا وَخَرُّوا لِلَّهِ سُجَّدًا فَيَكُونُ