تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 5

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة البقرة اس شیطانی اصول سے تو بہ کر کے یقینی راہ کے طالب نہ ہوں کیونکہ جس حالت میں اب تک برہمو سماج والوں کو خود با قراران کے ایسی کوئی کتاب نہیں ملی اور نہ انہوں نے آپ بنائی کہ جو ایسے مسائل کا مجموعہ ہو کہ جو غلطی سے خالی ہوں تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ اب تک ایمان ان کا ورطہ شبہات میں ڈوبتا پھرتا ہے اور یہ اصول ان کا صاف دلالت کرتا ہے کہ ان کو خدا شناسی کے مسائل میں سے کسی مسئلہ پر یقین حاصل نہیں اور ان کے نزدیک یہ بات محالات میں سے ہے کہ کوئی کتاب علم دین میں صحیح مسائل کا مجموعہ ہو بلکہ انہوں نے تو علانیہ یہ رائے ظاہر کر دی ہے کہ گو کوئی کتاب ایسی ہو کہ جو سراسر خدا کی ہستی کی قائل اور اس کو واحد لاشریک اور قادر اور خالق اور عالم الغیب اور حکیم اور رحمان اور رحیم اور دوسری صفات کاملہ سے یاد کرتی ہو اور حدوث اور فنا اور تغیر اور تبدل اور شرکت غیر وغیرہ امور نا قصہ سے پاک اور برتر سمجھتی ہو مگر تب بھی وہ کتاب ان کے نزدیک غلطی کے امکان سے خالی نہیں اور اس لائق نہیں کہ جو اس پر یقین کیا جائے اور اسی پر وجہ سے یہ لوگ قرآن شریف سے بھی انکار کر رہے ہیں۔ اب دیکھو کہ ان کے دین وایمان کا انہیں کے اقرار سے یہ خلاصہ نکلا کہ ان کے نزدیک خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت اور قادریت بھی امکان غلطی سے خالی نہیں !! غرض جب کہ انہوں نے آپ ہی اقرار کر دیا کہ ان کے پاس کوئی ایسی کتاب نہیں جس کی صحت ان کے نزدیک یقینی ہو تو اس سے صاف کھل گیا کہ ان کے مذہب کی بنیاد سراسر ظنیات پر ہے اور ایمان ان کا مراتب یقینیہ سے بکلی دورہ مہجور ہے۔ پس یہ وہی بات ہے جس کو ہم بارہا اسی حاشیہ میں لکھ چکے ہیں کہ مجرد عقلی تقریروں سے علم الہیات میں کامل تسلی اور تشقی ممکن نہیں اس صورت میں ہمارا اور برہمولوگوں کا اس بات پر تو اتفاق ہو چکا کہ مجرد عقل کی رہبری سے کوئی انسان یقین کامل تک نہیں پہنچ سکتا اور مابه النزاع فقط یہی امر تھا کہ کیا خدا نے برہمو لوگوں کی رائے کے موافق انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ باوجود جوش طلب یقین کامل اور حق محض کے جو اس کی فطرت میں ڈالا گیا ہے پھر بھی اپنی اس فطرتی مراد سے ناکام اور بے نصیب رہے اور صرف ایسے خیالوں تک اس کا علم محدود رہے کہ جو امکان غلطی سے خالی نہیں یا خدا نے اس کی معرفت کامل اور پوری پوری کامیابی کے لئے کوئی سبیل بھی مقرر کر رکھا ہے اور کوئی ایسی کتاب بھی عطا فرمائی ہے کہ جو اس اصول متذکرہ بالا سے باہر ہو کہ جس میں امکان غلطی کا قاعدہ کلیہ کر رکھا ہے سو الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْمِنْةِ ایسی کتاب کا خدا کی طرف سے نازل ہونا براہین قطعیہ سے ہم پر ثابت ہو گیا ہے اور ہم بذریعہ کتاب ممدوح کے اس ہلاکت کے ورطہ سے باہر نکل آئے ہیں جس میں برہمو لوگ مردہ کی طرح پڑے