تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 188

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۸ سورة البقرة طرح خدا پر ایمان لانے کی تاکید ہے ایسا ہی اُس کے رسولوں پر بھی ایمان لانے کی تاکید ہے اور متشابہات کی یہ علامت ہے کہ اُن کے ایسے معنی ماننے سے جو مخالف محکمات کے ہیں فساد لازم آتا ہے اور نیز دوسری آیات سے جو کثرت کے ساتھ ہیں مخالف پڑتی ہیں خدا تعالیٰ کے کلام میں تناقض ممکن نہیں اس لئے جو قلیل ہے بہر حال کثیر کے تابع کرنا پڑتا ہے اور میں لکھ چکا ہوں کہ اللہ کے لفظ پر غور کرنا اس وسوسہ کو مٹا دیتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے کلام میں اس کے اپنے بیان میں اللہ کے لفظ کی یہ تصریح ہے کہ اللہ وہ خدا ہے جس نے کتابیں بھیجی ہیں اور نبی بھیجے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا کہ وہ ان مدارج اور مراتب کو پالیں جو رسول کریم کی پیروی سے لوگوں کو ملیں گے کیونکہ جن منازل تک باعث پیروی نور رسالت پیروی کرنے والے پہنچ سکتے ہیں محض اندھے نہیں پہنچ سکتے اور یہ خدا کا فضل ہے جس پر چاہے کرے۔اور جبکہ خدا تعالیٰ نے اسم اللہ کو اپنے تمام صفات اور افعال کا موصوف ٹھہرایا ہے تو اللہ کے لفظ کے معنے کرنے کے وقت کیوں اس ضروری امر کو محفوظ نہ رکھا جاوے۔ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ قرآن شریف سے پہلے عرب کے لوگ اللہ کے لفظ کو کن معنوں پر استعمال کرتے تھے۔مگر ہمیں اس بات کی پابندی کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک اللہ کے لفظ کو انہیں معنوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ وہ رسولوں اور نبیوں اور کتابوں کا بھیجنے والا اور زمین اور آسمان کا پیدا کرنے والا اور فلاں فلاں صفت سے متصف اور واحد لا شریک ہے۔ہاں جن لوگوں کو خدا تعالیٰ کا کلام نہیں پہنچا اور وہ بالکل بے خبر ہیں اُن سے اُن کے علم اور عقل اور فہم کے موافق مؤاخذہ ہوگا۔لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ وہ ان مدارج اور مراتب کو پالیں جو رسول کریم کی پیروی سے لوگوں کو ملیں گے۔کیونکہ جن منازل تک بباعث پیروی نور رسالت پیروی کرنے والے پہنچ سکتے ہیں محض اندھے نہیں پہنچ سکتے اور یہ خدا کا فضل ہے جس پر چاہے کرے۔جملہ پھر اس ظلم کو تو دیکھو کہ باوجود اس کے کہ قرآن شریف کی صد با آیتیں بلند آواز سے کہہ رہی ہیں کہ نری توحید موجب نجات نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے ساتھ رسول کریم پر ایمان لانا شرط ہے پھر بھی میاں عبد الحکیم خان ان آیات کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے اور یہودیوں کی طرح ایک دو آیت جو مجمل طور پر واقع ہیں اُن کے الٹے معنے کر کے بار بار پیش کرتے ہیں۔ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر ان آیات کے یہی معنے ہیں جو عبد الحکیم پیش کرتا ہے تب اسلام دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔اور جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام مثل نماز، اگر اس مجمل آیت کے یہ معنی کئے جائیں تو کیا وجہ کہ اس دوسری مجمل آیت یعنی إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر: ۵۴) کی رو سے اعتقاد یہ رکھا جائے کہ شرک بھی بخشا جائے گا۔منہ