تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 187
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۷ سورة البقرة ر يَكْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَ يُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنْ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَ يُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا لى أوليكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا وَ اعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مهينا ( النساء : ۱۵۲،۱۵۱) یعنی جو لوگ ایسا ایمان لانا نہیں چاہتے جو خدا پر بھی ایمان لاویں اور اس کے رسولوں پر بھی اور چاہتے ہیں کہ خدا کو اس کے رسولوں سے علیحدہ کر دیں اور کہتے ہیں کہ بعض پر ہم ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں یعنی خدا پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں پر نہیں یا بعض رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں اور ارادہ کرتے ہیں کہ بین بین راہ اختیار کر لیں یہی لوگ واقعی طور پر کافر اور پکے کا فر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔یہ تو آیات محکمات ہیں جن کی ہم ایک بڑی تفصیل ابھی لکھ چکے ہیں۔دوسری قسم کی آیات متشابہات ہیں جن کے معنی باریک ہوتے ہیں اور جو لوگ راسخ فی العلم ہیں اُن لوگوں کو اُن کا علم دیا جاتا ہے اور جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ آیات محکمات کی کچھ پروا نہیں رکھتے اور متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور محکمات کی علامت یہ ہے کہ محکمات آیات خدا تعالیٰ کے کلام میں بکثرت موجود ہیں اور خدا تعالیٰ کا کلام اُن سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور اُن کے معنی کھلے کھلے ہوتے ہیں اور اُن کے نہ ماننے سے فساد لازم آتا ہے مثلاً اس جگہ دیکھ لو کہ جو شخص محض خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اُس کے رسولوں پر ایمان نہیں لاتا اُس کو خدا تعالیٰ کی صفات سے منکر ہونا پڑتا ہے۔مثلاً ہمارے زمانہ میں برہمو جو ایک نیا فرقہ ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں مگر نبیوں کو نہیں مانتے وہ خدا تعالیٰ کے کلام سے منکر ہیں اور ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالی سنتا ہے تو بولتا بھی ہے۔پس اگر اس کا بولنا ثابت نہیں تو سٹنا بھی ثابت نہیں۔اس طرح پر ایسے لوگ صفات باری سے انکار کر کے دہریوں کے رنگ میں ہو جاتے ہیں اور صفات باری جیسے ازلی ہیں ویسے ابدی بھی ہیں اور ان کو مشاہدہ کے طور پر دکھلانے والے محض انبیاء علیہم السلام ہیں اور نفی صفات باری نفی وجود باری کو مستلزم ہے۔اس تحقیق سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے لئے انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا کس قدر ضروری ہے کہ بغیر اُن کے خدا پر ایمان لانا ناقص اور نا تمام رہ جاتا ہے اور نیز آیات محکمات کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ اُن کی شہادت نہ محض کثرت آیات سے بلکہ عملی طور پر بھی ملتی ہے۔یعنی خدا کے نبیوں کی متواتر شہادت اُن کے بارہ میں پائی جاتی ہے۔جیسا کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے کلام قرآن شریف اور دوسرے نبیوں کی کتابوں کو دیکھے گا۔اُس کو معلوم ہوگا کہ نبیوں کی کتابوں میں جس