تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 171

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة البقرة یہودیوں کی روحوں کا دوبارہ بطور تناسخ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں آجانا قبول نہ کیا جائے جن کے موجود ہو جانے پر نصوص صریحیہ بینہ قرآن کریم شاہد ہیں۔شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۷ تا ۳۲۹) یہود میں جب طاعون مصر اور کنعان کی راہ میں پھوٹی تو وہ لوگ اُس وقت جنگل میں تھے اور شہر کی عفونتوں سے بالکل الگ تھے۔ترنجبین اور بٹیر اُن کی غذا تھی۔وہ یقین کرتے تھے کہ اب کوئی بلا ہم پر نہیں آئے گی مگر جب انہوں نے نافرمانی شروع کی اور فسق اور فجور میں مبتلا ہوئے تو وہی ترنجبین اور بٹیر طاعون کا موجب ہو گئے۔یہ کیسا باریک بھید خدا کی حکمتوں کا ہے کہ چونکہ اللہ جل شانہ جانتا تھا کہ یہ قوم عنقریب سرکشی اختیار کرے گی اس لئے اُن کے لئے دن رات کی غذا ترنجبین اور بشیر مقرر کیا گیا۔یہ دونوں چیز میں طب کے قواعد کی رُو سے بالخاصیت طاعون پیدا کرتی ہیں اسی وجہ سے طبیب لوگ امراض جلدیہ میں جہاں جور اور پھوڑوں کی بیماریاں ہوں ترنجبین دینے سے پر ہیز کیا کرتے ہیں۔بد بخت یہود ایک طرف تو ارتکاب جرائم کا کرتے رہے اور دوسری طرف دن رات بٹیر اور ترنجبین کھا کر طاعون کا مادہ اپنے اندر جمع کر لیا۔جب اُن کے مواخذہ کا وقت آیا تو ایک طرف تو جرائم انتہا کو پہنچ چکے تھے جو سزا کو چاہتے تھے اور دوسری طرف طاعونی مادہ بٹیر اور ترنجبین کے استعمال سے اس قدر اُن کے اندر جمع ہو گیا تھا کہ اب وہ تقاضا کرتا تھا کہ اُن میں طاعون پھوٹے۔سو اس ایک ہی رات میں جب یہودیوں کے لئے آسمان سے سزا کا حکم نازل ہوا ساتھ اس کے مادہ طاعون کو بھی جو تیار بیٹھا تھا یہ حکم آیا کہ ہاں اب نکل اور اس شریر قوم کو ہلاک کر۔تب وہ اس جنگل میں کتوں کی طرح مرے۔فاعتبروا يا أولى الأبصار ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۴۰) هذَا مَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ وَتَقْرَءُونَه في یہ آیات ۵۱ تا ۵۸) ہیں جو قرآن کریم میں آئی كِتَابِ اللهِ الْفُرْقَانِ مَعَ أَنَّ ظَاهِرَ ہیں اور تم انہیں کتاب اللہ میں پڑھتے ہو۔ان آیات میں صُورت هذَا الْبَيَانِ يُخَالِفُ أَصْلَ ظاہر جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ اصل واقعات کے خلاف ہے الْوَاقِعَةِ وَهذَا أَمْرٌ لَّا يَختَلِفُ فِيهِ اور یہ ایسا امر ہے جس میں کوئی دو آدمی بھی اختلاف نہیں اثْنَانِ فَإِنَّ اللهَ مَا فَرَقَ بِيَهُودَ زَمَانِ کرتے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے نبينا تخرا مِنَ الْبِحَارِ وَمَا أَغْرَقَ ال فِرْعَوْنَ أَمَامَ أَعْيُنٍ تِلْكَ الْأَشْرَارِ، وَمَا یہود کے لئے کسی سمندر کو نہیں چیرا۔نہ اللہ نے آل فرعون کو ان شریروں کے سامنے غرق کیا اور نہ وہ ان خطرات کے