تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 170
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 16 • سورة البقرة زمانہ میں آنے کا ایک واقعہ حضرت عیسی کی طرف منسوب کیا گیا حالانکہ وہ فوت ہو چکے تھے پس یہ واقعہ بھی حضرت مسیح کی طرف ایسا ہی منسوب ہے جیسا کہ واقعہ فرعون کے ہاتھ سے نجات پانے کا اور من وسلوکی کھانے کا اور صاعقہ گرنے کا اور دریا سے پار ہونے کا اور قصہ لَن نَّصْبِرَ عَلى طَعَامٍ وَاحِدٍ(البقرة :۶۲) کا اُن یہودیوں کی طرف منسوب کیا گیا جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے۔حالانکہ وہ واقعات اُن کی پہلی قوم کے تھے جو اُن سے صدہا برس پہلے مر چکے تھے۔پس اگر کسی کو آیات کے معنے کرنے میں معقولی شق کی طرف خیال نہ ہو اور ظاہر الفاظ پر اڑ جانا واجب سمجھے تو کم سے کم ان آیات سے یہ ثابت ہوگا کہ مسئلہ تناسخ حق ہے اور نہ کیونکر ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ ایک فاعل کے فعل کو کسی ایسے شخص کی طرف منسوب کرے جس کو اس فعل کے ارتکاب سے کچھ بھی تعلق نہیں حالانکہ وہ آپ ہی فرماتا ہے لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (الأنعام: ۱۶۵) پھر اگر موسیٰ کی قوم نے موسیٰ کی نافرمانی کی تھی اور اُن پر بجلی گری تھی یا انہوں نے گوسالہ پرستی کی تھی اور ان پر عذاب نازل ہوا تھا تو اس دُوسری قوم کو ان واقعات سے کیا تعلق تھا جو دو ہزار برس بعد پیدا ہوئے۔یوں تو حضرت آدم سے تا ایں دم متقدمین متاخرین کے لئے بطور آباء واجداد ہیں لیکن کسی کا گنہ کسی پر عائد نہیں ہوسکتا۔پھر خدا تعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ فرمانا کہ تم نے موسیٰ کی نافرمانی کی اور تم نے کہا کہ ہم خدا کو نہیں مانیں گے جب تک اس کو دیکھ نہ لیں اور اس گنہ کے سبب سے تم پر بجلی گری کیونکر ان تمام الفاظ کے بنظر ظاہر کوئی اور معنے ہو سکتے ہیں بجز اس کے کہ کہا جائے کہ دراصل وہ تمام یہودی جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے حضرت موسیٰ کے وقت میں بھی موجود تھے اور انہیں پر من و سلوی نازل ہوا تھا اور انہیں پر بجلی پڑی تھی اور انہیں کی خاطر فرعون کو ہلاک کیا گیا تھا اور پھر وہی یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بطور تناسخ پیدا ہو گئے اور اس طرح پر خطاب صحیح ٹھہر گیا مگر سوال یہ ہے کہ کیوں ایسے سیدھے سیدھے معنے نہیں کئے جاتے۔کیا یہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے دُور ہیں اور کیوں ایسے معنے قبول کئے جاتے ہیں جو تاویلات بعیدہ کے حکم میں ہیں کیا خدا تعالیٰ قادر نہیں کہ جس طرح بقول ہمارے مخالفوں کے وہ حضرت عیسی کو بعینہ بجسد و العصری کسی وقت صد ہا برسوں کے بعد پھر زمین پر لے آئے گا۔اسی طرح اُس نے حضرت موسیٰ کے زمانہ کے یہودیوں کو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں زندہ کر دیا ہو یا اُن کی رُوحوں کو بطور تناسخ پھر دُنیا میں لے آیا ہو جس حالت میں صرف بے بنیاد اقوال کی بنیاد پر حضرت عیسی کی روح کا پھر دنیا میں آنا تسلیم کیا گیا ہے تو کیوں اور کیا وجہ کہ ان تمام