تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 169

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۹ سورة البقرة بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے کیا یہودیوں کی روحوں کا دوبارہ دُنیا میں آنا خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید اور نیز طریق معقول کے برخلاف لیکن حضرت عیسی کا بجسد والعصری پھر زمین پر آ جانا بہت معقول ہے۔(شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۰،۳۲۹) اُن کی یہ خاص مراد کشف و الہاما و عقلاً وفرقانا مجھے پوری ہوتی نظر نہیں آتی کہ وہ لوگ سچ مچ کسی دن حضرت مسیح ابن مریم کو آسمان سے اُترتے دیکھ لیں گے سو انہیں اس بات پر ضد کرنا کہ ہم تب ہی ایمان لا ئیں گے کہ جب مسیح کو اپنی آنکھوں سے آسمان سے اُترتا ہوا مشاہدہ کریں گے ایک خطرناک ضد ہے اور یہ قول اُن لوگوں کے قول سے ملتا جلتا ہے جن کا خود ذکر اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ وہ حقی ترکی اللہ کہتے رہے اور ایمان لانے سے بے نصیب رہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۸) ثُمَّ بَعَثْنَكُم مِن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔پھر تم کو زندہ کیا گیا تا کہ تم شکر کرو۔( شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۷) وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلوى كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ ، وَمَا ظَلَمُونَا وَلكِن كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے تمہیں بدلی کا سایہ دیا اور تمہارے لئے من وسلویٰ اُتارا۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۴۶) اور ہم نے بادلوں کو تم پر سائبان کیا اور ہم نے تم پر من و سلویٰ اُتارا۔اب ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ تو ان یہودیوں سے جو قرآن میں مخاطب کئے گئے دو ہزار برس پہلے فوت ہو چکے تھے اور ان کا حضرت موسیٰ کے زمانہ میں نام ونشان بھی نہ تھا پھر وہ حضرت موسیٰ سے ایسا سوال کیوں کر کر سکتے تھے کہاں اُن پر بجلی گری کہاں انہوں نے من وسلویٰ کھایا۔کیا وہ پہلے حضرت موسیٰ کے زمانہ میں اور ، اور قالبوں میں موجود تھے اور پھر آنحضرت کے زمانہ میں بھی بطور تناسخ آ موجود ہوئے اور اگر یہ نہیں تو بجز اس تاویل کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ مخاطبت کے وقت ضروری نہیں کہ وہی لوگ حقیقی طور پر واقعات منسوبہ کے مصداق ہوں جو مخاطب ہوں۔کلام الہی اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ ایک قاعدہ پھہر گیا ہے کہ بسا اوقات کوئی۔ا واقعہ ایک شخص یا ایک قوم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور دراصل وہ واقعہ کسی دوسری قوم یا دوسرے شخص سے تعلق رکھتا ہے اور اسی باب میں سے عیسی بن مریم کے آنے کی خبر ہے کیونکہ بعض احادیث میں آخری