تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 146

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۶ سورة البقرة (البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخه ۳ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۷) میں نہ ہوتی۔ممکن ہے کہ ایک قوم موجود ہو اور اس کے ہوتے وہ اور قوم پیدا کر دیوے یا ایک قوم کو ہلاک کر کے اور پیدا کر دے۔موسیٰ کے قصہ میں بھی ایک جگہ ایسا واقعہ بیان ہوا ہے۔آدم کے وقت بھی خدا سابقہ قوموں کو ہلاک کر چکا تھا پھر جب آدم کو پیدا کیا تو اور قوم بھی پیدا کر دی۔خلیفہ کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ایک قوم ضرور پہلے سے موجود ہو ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک اور قوم کو پیدا کر کے پہلی قوم کا خلیفہ اُسے قرار دیا جاوے اور آدم اس کے مورث اعلیٰ ہوں کیونکہ خدا کی ذات ازلی ابدی ہے اس پر تغیر نہیں آتا مگر انسان ازلی ابدی نہیں ہے اس پر تغیر آتا ہے میرے الہام میں بھی مجھے آدم کہا گیا ہے۔جب روحانیت پر موت آجاتی ہے یعنی اصل انسانیت فوت ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بطور آدم کے ایک اور کو پیدا کرتا ہے اور اس طرح سے ہمیشہ سے آدم پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اگر قدیم سے یہ سلسلہ ایسا نہ ہو تو پھر ماننا پڑے گا کہ ۵ یا ۶ ہزار برس سے خدا ہے قدیم سے نہیں ہے یا یہ کہ اول وہ معطل تھا۔(البدرجلد ۲ نمبر ۲۴ مورخه ۳ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۸۷) اسلام اور قرآن شریف کا یہ مذہب نہیں کہ دنیا چھ ۶ ہزار سال سے ہے یہ تو عیسائی لوگوں کا عقیدہ ہے مگر قرآن شریف میں تو خدا تعالیٰ نے آدم کے متعلق فرمایا ہے کہ اِنِّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ اب ظاہر ہے کہ خلیفہ اس کو کہتے ہیں کہ جو کسی کے پیچھے آوے۔اور اس کا جانشین ہو۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدم سے پہلے بھی مخلوق تھی۔آدم اس کا قائم مقام اور جانشین ہوا۔البدر جلد نمبر ۱۴ مورخہ ۶ جولائی ۱۹۰۵ ء صفحه ۲) ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی اس مسئلہ میں ہم تو ریت کی پیروی کرتے ہیں کہ چھ سات ہزار سال سے ہی جب سے یہ آدم پیدا ہوا تھا اس دنیا کا آغاز ہوا ہے اور اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا اور خدا گویا معطل تھا۔اور نہ ہی ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ تمام نسل انسانی جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے یہ ای آخری آدم کی نسل ہے۔ہم تو اس آدم سے پہلے بھی نسل انسانی کے قائل ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف کے الفاظ سے پتہ لگتا ہے۔خدا نے یہ فرمایا کہ اِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِیفَةٌ- خلیفہ کہتے ہیں جانشین کو۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آدم سے پہلے بھی مخلوق موجود تھی۔پس امریکہ اور آسٹر یلیا وغیرہ کے لوگوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس آخری آدم کی اولاد میں سے ہیں یا کہ کسی دوسرے آدم کی اولاد میں سے ہیں۔آپ کے سوال کے مناسب حال ایک قول حضرت محی الدین ابن عربی صاحب کا ہے وہ لکھتے ہیں کہ