تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 138

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۸ سورة البقرة الْمَرْضِيَّةِ الْفَانِيَةِ لِيَسْتَعِدَّ الْعَبْدُ قریب کرنا اس نفس کا جو خدا کے ساتھ آرام پکڑ چکا ہے جو لِقَبُولِ الْفَيْضِ بَعْدَ الْحَيَاةِ الثَّانِيَةِ وَ خدا سے راضی اور خدا اس سے راضی اور فنا شدہ ہے تا کہ یہ بَعْدَ ذَالِكَ يُكْسَى الْإِنْسَانُ الْكَامِل حُلَّةَ بندہ حیات ثانی کے بعد قبول فیض کے لئے مستعد ہو جائے الْخِلَافَةِ مِنَ الْحَضْرَةِ وَ يُصَبَّعُ بِصِبْغ اور اس کے بعد انسان کامل کو حضرت احدیت کی طرف صِفَاتِ الْأُلُوهِيَّةِ عَلَى وَجْهِ الظُّليَّةِ سے خلافت کا پیرا یہ پہنایا جاتا ہے اور رنگ دیا جاتا ہے تَحْقِيقًا لِمَقَامِ الْخِلَافَةِ وَ بَعْدَ ذَالِكَ الوہیت کی صفتوں کے ساتھ ۔ اور یہ رنگ ظلی طور پر ہوتا يَنْزِلُ إِلَى الْخَلْقِ لِيَجْنِبَهُمْ إِلَى ہے تا مقام خلافت متحقق ہو جائے ۔اور پھر اس کے بعد الرُّوْحَانِيَّةِ وَ يُخْرِجَهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ خلقت کی طرف اترتا ہے تا اُن کو روحانیت کی طرف کھینچے الْأَرْضِيَّةِ إِلَى الْأَنْوَارِ السَّمَاوِيَّةِ اور زمین کی تاریکیوں سے باہر لا کر آسمانی نوروں کی طرف وَيُجْعَلُ وَارِنَا لِكُلِّ مَنْ مَّطَى مِنْ قَبْلِهِ لے جائے اور یہ انسان اُن سب کا وارث کیا جاتا ہے جو مِنَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقِينَ وَأَهْلِ نبیوں اور صدیقوں اور اہلِ علم اور درایت میں سے اور الْعِلْمِ وَ الدِّرَايَةِ وَشُمُوسِ الْقُرْبِ وَ قرب اور ولایت کے سورجوں میں سے اس سے پہلے گزر الْوَلَايَةِ وَيُعطى لَهُ عِلْمُ الْأَوَّلِينَ وَ چکے ہیں اور دیا جاتا ہے اس کو علم اولین کا اور معارف گزشتہ مَعَارِفُ السَّابِقِينَ مِنْ أُولِي الْأَبْصَارِ وَ اہلِ بصیرت اور حکما ء ملت کے تا اس کے لئے مقام وراثت حُكَمَاءِ الْمِلَّةِ تَحْقِيقًا لِمَقَامِ الْوَرَاثَةِ ا تحقق ہو جائے ۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۵ تا ۴۱) میری نسبت خدا نے میرے ہی ذریعہ سے براہین احمدیہ میں خبر دی کہ میں آدم کے رنگ پر ایک خلیفہ پیدا کرتا ہوں۔ تب اس خبر کو سن کر بعض مخالفوں نے میرے حالات کو کچھ اپنے عقائد کے برخلاف پا کر اپنے دلوں میں کہا کہ یا الہی کیا تو ایسے انسان کو اپنا خلیفہ بنائے گا کہ جو ایک مفسد آدمی ہے جو ناحق قوم میں پھوٹ ڈالتا ہے اور علماء کے مسلمات کے مسلمات سے باہر جاتا ہے۔ تب خدا نے جواب دیا کہ جو مجھے معلوم ہے وہ تمہیں معلوم نہیں۔ یہ خدا کا کلام ہے کہ جو مجھ پر نازل ہوا اور در حقیقت میرے اور میرے خدا کے درمیان ایسے باریک راز ہیں جن کو دنیا نہیں جانتی اور مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں اور اس زمانہ کے لوگ اس سے بے خبر ہیں۔ پس یہی معنے ہیں اس وحی الہی کے کہ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۸۱،۸۰)