تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 136

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۶ سورة البقرة قسم کا کام انہیں سپرد ہے بلکہ ہر یک فرشتہ علیحدہ علیحدہ کاموں کے انجام دینے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔دنیا میں جس قدر تم تغیرات و انقلابات دیکھتے ہو یا جو کچھ نگمن قوة سے حیر فعل میں آتا ہے یا جس قدر ارواح و اجسام اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتے ہیں ان سب پر تاثیرات سماویہ کام کر رہی ہیں اور بھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور کی استعدادوں پر مختلف طور کے اثر ڈالتا ہے۔( توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۸۶،۸۵) ( نیز دیکھیں آیت ۹۸ سورة البقرة) صرف اتنا ہی نہیں کہ ملائک بعض وقت نظر آتے ہیں بلکہ بسا اوقات ملائک کلام میں اپنا واسطہ ہونا ظاہر کر ( بركات الدعاء، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۶ حاشیه ) دیتے ہیں۔یہ سنت اللہ ہے کہ جب ایک مامور آتا ہے تو آسمان سے اس کے ساتھ فرشتے یا یوں کہوں کہ نور اترتا ہے اور وہ نور مستعد دلوں پر پڑتا اور ان کو روشن کرتا اور ان کو قوت دیتا ہے اور ہر ایک شخص قوت پا کر روحانی امور کو سمجھنے لگتا ہے چونکہ اس نزول نور کا اصل سبب وہ مامور ہی ہوتا ہے اس لئے اس زمانہ کے تمام دینی معارف اُسی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۸۷ حاشیه ) ملائک اس معنی سے ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ ملاک اجرام سماویہ اور ملاک اجسام الارض ہیں یعنی ان کے قیام اور بقا کے لئے روح کی طرح ہیں اور نیز اس معنے سے بھی ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ رسولوں کا کام دیتے توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۸ حاشیه ) ہیں۔وَالْمُسْلِمُ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ اور مسلمان وہ ہے جس نے اپنا منہ ذبح ہونے کے لئے رَبِّ الْعَالَمِينَ۔وَلَهُ نَحَرَ نَاقَةَ نَفْسِهِ خدا تعالیٰ کے آگے رکھ دیا ہو۔اور اپنے نفس کی اونٹنی کو اس کے وَتَلَّهَا لِلْجَبِينِ۔وَمَا نَسي الحنين في لئے قربان کر دیا ہو اور ذبح کے لئے پیشانی کے بل اس کو گرا دیا ہو حِينٍ فَخَاصِلُ الْكَلَامِ أَنَّ النُّسُك اور موت سے ایک دم غافل نہ ہو پس حاصل کلام یہ ہے کہ ذبیحہ وَالضَّحَايَا فِي الْإِسْلَامِ۔هي تذكرة اور قربانیاں جو اسلام میں مروج ہیں وہ سب اسی مقصود کے لئے هِيَ تَذْكِرَةٌ لِهَذَا الْمَرَامِ وَ حَقٌّ عَلى تَحْصِيلِ جو بذل نفس ہے بطور یاددہانی ہیں اور اس مقام کے حاصل هذَا الْمَقَامِ وَارْهَاصٌ لِحَقِيقَةٍ کرنے کے لئے ایک ترغیب ہے اور اس حقیقت کے لئے جو تَحْصُلُ بَعْدَ السُّلُوكِ التَّاقِ سلوک تام کے بعد حاصل ہوتی ہے ایک ارباص ہے۔پس فَوَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَةٍ ہر ایک مرد مومن اور عورت مومنہ پر جو خدائے ودود کی رضا کی كَانَ يَبْتَغِي رِضَاءَ اللهِ الْوَدُودِ۔آن طالب ہے واجب ہے کہ اس حقیقت کو سمجھے اور اس کو اپنے مقصود