تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 135

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۳۵ سورة البقرة رکھتے ہیں اپنی ذات پاک میں اور اپنے رسولوں میں ایسے طور کا واسطہ نہیں ٹھہرایا جس کے رو سے ان فرشتوں کو با اقتدار یا با اختیار مان لیا جاوے بلکہ ان کو اپنی نسبت ایسا ظاہر فرمایا ہے کہ جیسے ایک بے جان چیز ایک زندہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے جس سے وہ زندہ جس طور سے کام لینا چاہتا ہے لیتا ہے۔اسی بناء پر بعض مقامات قرآن شریف میں اجسام کے ہر یک ذرہ پر بھی ملائک کا نام اطلاق کر دیا گیا ہے کیونکہ وہ سب ذرات اپنے رب کریم کی آواز سنتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا گیا ہو مثلاً جو کچھ تغییرات بدن انسان میں مرض کی طرف یا صحت کی طرف ہوتے ہیں ان تمام مواد کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق آگے پیچھے قدم رکھتا ہے۔اب ذرا آنکھ کھول کر دیکھ لینا چاہیئے کہ اس قسم کے وسائط کے ماننے میں جو قرآن شریف میں قرار دیئے گئے ہیں کونسا شرک لازم آتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی شانِ قدرت میں کونسا فرق آجاتا ہے بلکہ یہ تو اسرار معرفت و دقائق حکمت کی وہ باتیں ہیں جو قانون قدرت کے صفحہ صفحہ میں لکھی ہوئی نظر آتی ہیں اور بغیر اس انتظام کے ماننے کے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ ثابت ہی نہیں ہوسکتی اور نہ اس کی خدائی چل سکتی ہے بھلا جب تک ذرہ ذرہ اُس کا فرشتہ بن کر اس کی اطاعت میں نہ لگا ہوا ہو تب تک یہ سارا کارخانہ اُس کی مرضی کے موافق کیوں کر چل سکتا ہے؟ کوئی ہمیں سمجھائے تو سہی اور نیز اگر ملائک سماویہ کے نظام روحانی سے خدا تعالیٰ کی قادرانہ شان پر کچھ دھبہ لگ سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں ملائک کے نظام جسمانی کے ماننے سے کہ جو نظام روحانی کا بعینہ ہم رنگ و ہم شکل ہے خدائے تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر کوئی دھبہ نہیں لگ سکتا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آریہ وغیرہ ہمارے مخالفوں نے فرط نا بینائی سے ایسے ایسے بے جا اعتراضات کر دیئے ہیں جن کی اصل بناء بہت سے مشرکانہ حواشی کے ساتھ ان کے گھر میں بھی موجود ہے اور ناحق بوجہ اپنی بے بصیرتی کے ایک عمدہ صداقت کو بطالت کی شکل میں سمجھ لیا ہے۔۔۔۔۔۔یہ بھی یادرکھنا چاہیئے کہ اسلامی شریعت کی رو سے خواص ملائک کا درجہ خواص بشر سے کچھ زیادہ نہیں بلکہ خواص الناس خواص الملائک سے افضل ہیں اور نظام جسمانی یا نظام روحانی میں ان کا وسائط قرار پانا اُن کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا بلکہ قرآن شریف کی ہدایت کے رو سے وہ خدام کی طرح اس کام میں لگائے گئے ہیں۔توضیح مرام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۸ تا ۷۴ ) ملائک اللہ (جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں ) ایک ہی درجہ کی عظمت اور بزرگی نہیں رکھتے نہ ایک ہی